تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 51
تاریخ احمدیت۔جلد 28 51 سال 1972ء اسلام کی شاہراہ پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ۔حضور کا یہ نہایت درجہ روح پرور اور ایمان افروز خطاب کم و بیش ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔اس خطاب کے بعد بجٹ صدر انجمن احمدیہ، بجٹ تحریک جدید و وقف جدید، تجاویز مقبره بهشتی و وکالت تبشیر اور تجاویز اصلاح وارشاد و امور عامہ کے لئے چار سب کمیٹیوں کا تقرر عمل میں آیا۔جن کے صدر حضور نے بالترتیب ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب (ساہیوال)، چوہدری نذیر احمد صاحب باجوہ (ساہیوال)، کیپٹن سید افتخار حسین صاحب (کراچی) اور آدم خان صاحب ( مردان) مقرر فرمائے۔دوسرے دن کا پہلا اجلاس اس روز پہلے اجلاس میں تعمیل فیصلہ جات شوری ۱۹۷۲ء، اضافہ بجٹ دوران سال اور سب کمیٹی بجٹ صدر انجمن احمد یہ پاکستان کی رپورٹیں حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں پیش کی گئیں۔بجٹ کمیٹی کی عمومی بحث کے دوران حضور نے یہ انکشاف فرمایا:۔سعودی عرب کے سفیر نے بڑا معرکہ مارا۔ہمارے غانا کے احمدیوں کو حج کے لئے ویزے نہیں دیئے۔کہا احمدیوں کو ویز انہیں دینا۔اب دیکھو غانا کے ایک احمدی کو جو کسی اور قافلے کے ساتھ حج کرنے جارہا تھا اس کو تو ویز انہیں دیا گیا لیکن نائیجیریا میں ایک احمدی کو سالار قافلہ بنا دیا۔یعنی احمدی اور غیر احمدیوں کا جو قافلہ تھا جس میں بہت سے احمدی بھی تھے اور دوسرے دوست بھی تھے ان کا سالار قافلہ احمدی تھا اور یہ انفرادی واقعات ہیں۔دراصل اس وقت دنیا میں خوف اور بزدلی کی حکومت ہے۔حالات ہی کچھ ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ بڑی بڑی طاقتور قوموں نے انسان کے دل کو چیرہ چیرہ کر دیا ہے۔دل کے ساتھ ہمارے دماغ ، شجاعت اور بہادری اور بے خوفی کے جذ بہ کا تعلق ہے فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ کا جو جذ بہ ہے اس کے لئے بڑا مضبوط اور دلیر دل چاہیے لیکن دنیا کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ انسان کا دل بزدل بنا دیا گیا ہے۔بڑے بڑے پھنے خان یعنی روس بھی بزدل ہے ان کے سارے معاہدے فراست اور ہمدردی اور خیر خواہی کی بنیادوں پر نہیں بلکہ اپنی جان بچانے کے لئے ہیں اور یہ بھی بزدلی ہے یعنی حق و صداقت اور حقوق کی ادائیگی مدنظر نہیں بلکہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اپنی جان کی