تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 367
تاریخ احمدیت۔جلد 28 367 سال 1972ء صاحبان کی خدمت میں لٹریچر بھی پیش کیا۔جسے انہوں نے دلی شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔دینی کلاس کے طلباء نے پروگرام کے مطابق اپنی پڑھائی کو جاری رکھا اور آپ کی زیر نگرانی طلباء ہر ہفتے تبلیغی مشن اور فروخت لٹریچر کی خاطر باہر بھی جاتے رہے۔ایک دفعہ ہسپتال میں جا کر بیماریاں کی تیمارداری کی۔ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں جا کر وہاں کے آفیسر صاحبان کی خدمت میں لٹریچر پیش کیا۔Kimamba کا سفر اختیار کر کے صرف ایک دن میں 94۔30 شلنگ کی کتب فروخت کیں۔ٹانگا(Tanga) میں شیخ ابو طالب عبدی ساندی صاحب اپنے مفوّضہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہے۔آپ نے اپنے علاقہ کے کئی پولیس اور حکمران سیاسی پارٹی (ٹانو ) کے کئی آفیسر صاحبان سے ملاقاتیں کر کے انہیں لٹریچر دیا۔کچھ عرصہ آپ کو شیخ یوسف عثمان صاحب کمبا الا یا کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقعہ ملا۔(اس لئے کہ شیخ یوسف عثمان صاحب اپنی تبدیلی کی وجہ سے کبویہ سے ٹانگا آگئے تھے چنانچہ کئی دفعہ آپ کو غیر از جماعت مسلمان دوستوں کی مجالس میں جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں پر اسلام اور احمدیت کے بارہ میں کافی دیر تک دلچسپ گفتگو ہوتی رہی۔ایک دفعہ ہو میرا (Humera) کا دورہ کر کے وہاں کے لوگوں کو تبلیغ کی۔معلم عبد اللہ علی صاحب نے حکمران سیاسی پارٹی (ٹانو ) کے مختلف افسروں سے ملاقاتیں کر کے ان سے اسلام اور احمدیت کے بارہ میں تبادلۂ خیالات کیا۔کئی سنی علماء سے ملنے کا اتفاق ہوا جن سے مذہبی مسائل پر گفتگو خاصی حد تک دلچسپ رہی۔ایک دفعہ ایک تعلیمی سیمینار میں بکثرت لٹریچر تقسیم کیا۔اپنے علاقہ کے ریجنل ایجو کیشن آفیسر صاحب سے بھی ملاقات کی۔ایک دفعہ آپ کو مٹورا (Mtwara) کے بازار میں جا کر تبلیغ کرنے کا بھی موقعہ ملا۔وہاں جب آپ نے اپنا لٹریچر غیر از جماعت حضرات کے سامنے پیش کیا تو بہت سارے لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔چنانچہ آپ نے ان کو خوب تبلیغ کی اور ان کی طرف سے ہونے والے کئی سوالات کے جوابات بھی دیئے۔مختلف اوقات میں آپ سنی حضرات کی مساجد میں تشریف لے جا کر ان لوگوں سے وفات مسیح علیہ السلام ، ظہور مسیح علیہ السلام اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوعات پر گفتگو کرتے رہے۔بوانا میں حسن عثمانی سعیدی صاحب نے رمضان المبارک کی مصروفیات کے باوجود ماہوٹا (Mahuta)، نامیکو پا، یہا مبو کے، ماسی، لالنڈی کا سفر اختیار کیا۔دورہ کے دوران آپ کو کئی پادریوں اور سنی علماء سے ملنے کا اتفاق ہوا۔چنانچہ آپ حسب موقعہ ان سے دینی مسائل پر گفتگو کر کے