تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 336
تاریخ احمدیت۔جلد 28 336 سال 1972ء کی علامات پر روشنی ڈالنے کے بعد حاضرین کی توجہ اس بنیادی نکتہ کی طرف مبذول کرائی کہ جماعت احمدیہ کی مثال سب کے سامنے ہے کہ ایک چھوٹی سی جماعت اپنے قلیل وسائل کے باوجود ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ میں مصروف ہے اور چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ ہے اس لئے اسے ہر جگہ غیر معمولی کامیابی ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ اس جماعت کے ذریعہ اسلام کو غلبہ دے گا۔14 صاحبزادہ مرز امبارک احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ کا دورہ 44 صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے اس سال ۲۶،۲۵ نومبر کوضلع ساہیوال کا اور ۲۸،۲۷ نومبر ۱۹۷۲ء کو ضلع شیخو پورہ کا نہایت کامیاب دورہ کیا۔مولا نا شیخ مبارک احمد صاحب قائد تربیت ، مولوی عبد القادر صاحب ضیغم قائد تجنید اور چوہدری محمد ابراہیم صاحب بی اے سیکرٹری برائے صدر مجلس ) بھی اس دورہ میں صاحبزادہ صاحب کے ہمرکاب تھے۔۲۵ نومبر ۱۹۷۲ء کو پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ساڑھے سات بجے صبح صدر محترم مع مرکزی وفد مکرم ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب ناظم ضلع ساہیوال اور جماعت احمدیہ کے بعض دیگر دوستوں کے ہمراہ پاک پتن تشریف لے گئے جہاں سب سے پہلے حضرت بابا فرید الدین شکر گنج کے مزار پر دوستوں کے ساتھ دعا کی صدر مجلس مسجد احمدیہ میں تشریف لے گئے اور دوستوں سے ان کی خیریت دریافت فرمائی۔مکرم مربی صاحب سے پاکپتن میں جماعت احمدیہ کے پیغام کو پہنچانے کے سلسلہ میں گفتگو فرماتے رہے اور ان کو نصیحت فرمائی کہ وہ زیادہ دعاؤں پر زور دیں تاکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم سے لوگوں کے ذہن کھلیں اور ان کے اندروہ سعادت پیدا ہو جس کے نتیجہ میں وہ احمدیت کی طرف مائل ہوں۔سوا نو بجے پاک پتن سے براستہ ساہیوال چک L-6/11 تشریف لے گئے۔جہاں چوہدری محمد خان صاحب زعیم انصار اللہ کی سرکردگی میں احباب جماعت نے آپ کا استقبال کیا۔یہاں آپ نے دوستوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔اڑھائی بجے واپس ساہیوال تشریف لے آئے۔ساڑھے تین بجے ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب ناظم انصار اللہ نے اپنی کوٹھی پر شہر کے معززین کو چائے پر بلایا ہوا تھا۔مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مثلاً وکلاء، ڈاکٹر ز ، تاجر ،سول و بنک آفیسرز ، پروفیسرز اور زمیندار ایک سو سے اوپر تعداد میں تشریف لائے ہوئے تھے۔