تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 334 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 334

تاریخ احمدیت۔جلد 28 334 سال 1972ء غیر از جماعت بہنوں کو ملنے پر تبلیغ کی جاتی ہے اور ان کی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ایک بہن جو کہ پڑھی لکھی تو نہیں سندھ کی رہنے والی ہیں۔خاکسارہ نے انہیں کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے دعا کریں اور درود شریف اور نوافل پڑھ کر سو جا ئیں تو جو خواب آپ کو آئے وہ مجھے بتا ئیں۔چنانچہ تیسرے چوتھے دن وہ میرے ہاں آئیں اور خواب بیان کرنے لگیں اور کہنے لگیں کہ میں نے خواب میں ایک بزرگ دیکھے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ میں سید ہوں اور میرا نام نادرشاہ ہے اور میں ربوہ میں رہتا ہوں نیز ان کے دونوں ہاتھوں میں شہد ہے ایک میں زیادہ اور ایک میں کم۔زیادہ شہد انہوں نے کسی اور کو دے دیا اور جو کم تھا وہ مجھے دے دیا۔خواب سنانے کے بعد وہ کہنے لگی ( کیونکہ میں نے اسے کہا تھا کہ خواب کے بعد میں تمہیں حضرت صاحب کی تصویر دکھاؤں گی ) کہ بھلا تصویر دکھاؤ۔چنانچہ میں نے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی پھر حضرت مصلح موعود کی لیکن وہ ہر بار یہی کہتی رہی کہ نہیں خواب میں میں نے جو بزرگ دیکھے تھے وہ یہ نہیں تھے۔چنانچہ میں نے جب آپ حضور کی تصویر دکھائی بے ساختہ چلانے لگی کہ ہاں یہی ہیں۔یہی ہیں وہ بزرگ جن کو میں نے خواب میں دیکھا تھا آپ انہیں خط لکھ دیں اور ان سے میری خواب کی تعبیر بھی پوچھیں۔میں انشاء اللہ ضرور جلسہ سالانہ پر ربوہ جاؤں گی اور ان کی مرید بنوں گی۔11 محمد ممتاز خان دولتانہ سفیر پاکستان مسجد فضل لنڈن میں 41 میاں محمد ممتاز خان صاحب دولتانہ کے والد ماجد میاں احمد یار خان صاحب دولتانہ کو حضرت مصلح موعود سے گہری عقیدت تھی۔خود میاں محمدممتاز خان صاحب جن دنوں کارپس کرسٹی کالج آکسفورڈ میں پڑھتے تھے، مسجد فضل لنڈن سے خصوصی روابط رکھتے تھے لیکن جب آپ ۱۹۵۳ء میں وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو جماعت کے خلاف مجلس احرار نے جو تحریک چلائی تھی اسے حکومت پنجاب کی آشیر باد حاصل تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو نا کام کر دیا اور اس کے پس پردہ تمام کردار اپنے مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام رہے۔بہر حال ۱۹۷۲ء میں جب مسٹر ذوالفقار علی بھٹو برسراقتدار آئے تو ممتاز دولتانہ صاحب برطانیہ میں پاکستانی سفیر مقرر ہوئے۔آپ سفیر مقرر ہونے کے بعد ۱۳؎ اگست ۱۹۷۲ء کو مسجد فضل لندن بھی تشریف لائے اور خطاب بھی کیا جس کی روداد روز نامہ جنگ لندن ۱۷ اگست ۱۹۷۲ء پر درج ذیل الفاظ میں شائع ہوئی۔