تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 329
تاریخ احمدیت۔جلد 28 329 سال 1972ء تعالیٰ اور نعت رسول میں ان کا اردو اور فارسی کلام بہت مقبول ہوا۔آپ نے تحریک آزادی ہند اور قیام پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا اس سلسلہ میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں مگر حق و صداقت کا دامن نہ چھوڑا۔پشاور کی ادبی محفلوں اور ریڈیائی مشاعروں کی زینت تھے 30 ) نے عبدالوہاب صاحب کی گذشتہ روز کی تقریر سے متاثر ہو کر چار شعر کہے تھے جو انہوں نے اس پر کیف مجلس میں بڑی محبت سے سنائے جو یہ تھے دینِ خدائے پاک کی خدمت تر اشعار تجھ پر مدام رحمت خالق کا ہونز ول تو حضرت بلال کی زندہ ہے یادگار عبدالوہاب دل سے ہے تو عاشق رسول کردار نیک پر ترے ہر احمدی کو ناز آمد نے تیری ، روح کو مسرور کر دیا دارین میں رہے تو بہر حال سرفراز ذروں کو نور علم سے پرنور کر د یا 21 ایک چرچ کو موسیقی کے مرکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ سیہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ عیسائیت مغرب میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور عوام اس سے اس درجہ بد دل اور بیزار ہو چکے ہیں کہ انہوں نے گر جاؤں میں عبادت کے لئے آنا ہی ترک کرد یا ہے۔چنانچہ انگلستان اور بعض دوسرے مغربی ممالک میں لا تعداد گر جے بند کرنے پڑے ہیں۔انگلستان کے مشہور اخبار دی گارڈین میں ۱۹ مئی ۱۹۷۲ء کی اشاعت میں ” چرچ کا نیا مصرف“ کے زیر عنوان ایک خبر شائع ہوئی کہ ساؤتھ وارک لندن کا ہولی چرچ ۱۹۵۹ ء سے بے کار پڑا ہے اور اسے بطور چرچ استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔اس لئے ریہرسل ہال ( جو موسیقی وغیرہ کے مشق کے لئے مخصوص ہال ) اور ریکارڈنگ سٹوڈیو ( فن کاروں کی آواز میں ریکارڈ کرنے کے مرکز میں تبدیل کر دیا جائے گا۔“ اسی طرح موسیقی کو فروغ دینے والی دو تنظیموں نے چرچ کی عمارت کو موسیقی کے مرکز میں تبدیل کرنے پر کم و بیش اڑھائی لاکھ پونڈ خرچ کرنے کا اعلان بھی کیا۔گر جاؤں اور چرچ کو موسیقی سنٹر میں تبدیل کرنے کے یہ واقعات مغرب میں عیسائیت کی ناکامی اور اس سے عوام کی بیزاری کا ایک اور تازہ ثبوت ہے۔32