تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 286
تاریخ احمدیت۔جلد 28 286 سال 1972ء محفوظ نہ رہ سکے۔آپ کے نہایت علم دوست اور عالم و فاضل فرزند برادر مکرم شیخ محمد احمد پانی پتی تو آپ کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے۔آپ کے دوسرے فرزند برادرم شیخ مبارک محمود پانی پتی آپ کے بعد طویل عرصہ زندہ رہے لیکن جماعتی سرگرمیوں اور دیگر کاموں میں منہمک رہنے کی وجہ سے وہ آپ کے علمی خزانہ کی خاطر خواہ حفاظت نہ کر سکے۔آپ کے کتب خانہ کے ساتھ یہ تہنیتی خطوط بھی ضائع ہو گئے“۔173 زندگی بھر اردو ادب کے شعبہ میں کار ہائے نمایاں سرانجام دینے ، اپنے نام اور کام کا ڈنکا بجوانے اور جماعتی خدمات کا نہایت شاندار ریکارڈ قائم کرنے والا یہ درویش صفت صاحب منزلت احمدی ادیب و قلم کار دینی و دنیوی ہر دو لحاظ سے کامیاب زندگی گزارنے کے بعد بالآخر ۱۲/اکتوبر ۱۹۷۲ء کو عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت کر گیا۔آپ کی وفات کی وجہ ایک حادثہ بنی جس میں آپ کی ایک ہڈی فریکچر ہوگئی۔مورخہ ۱/۵ کتو بر کو آپریشن کے ذریعہ ہڈی درست کی گئی لیکن ساتھ ہی دل کی تکلیف شروع ہو گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔جماعت احمدیہ کے بلند پایہ نہایت مخلص خادم، ملک کے نامور ماہر تعلیم اور دانشور محترم پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم اے (کینٹب) نے اپنے تعزیتی مکتوب محرره ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۲ء میں رقم فرمایا: حضرت شیخ صاحب مرحوم کی زندگی اور ان کا کردار اور ان کا کام یہ سب زمانہ کے لئے نشان تھے۔میں اگر چہ ان کی صحبت اور معیت میں کبھی نہیں رہا لیکن میری خوش قسمتی یہ ہے کہ کافی عرصہ سے انہیں دیکھنا شروع کیا۔مجھے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی مجلس میں بیٹھنے کے بے شمار مواقع ملے۔ان سے مل کر کام کرنے کی توفیق بھی ملتی رہی۔انہی کی مجالس میں حضرت شیخ صاحب مرحوم کا ذکر سنا۔کیا ہی بھر پور، با برکت، مفید ملت اور قائم رہنے والی زندگی آپ کو نصیب ہوئی۔ایک طرف تاریخ ادب میں اتنا بڑا مقام حاصل کیا دوسری طرف سلسلہ کی خدمت کے میدان میں وہ وہ کام کئے جو اگر وہ نہ کرتے تو بالکل نہ ہوتے اور ہم ان سے محروم رہتے۔حضرت میر صاحب کا علمی فیض جماعت کو آپ ہی کے ذریعہ پہنچا۔در ثمین فارسی کا اردو ترجمہ، رسالہ مقطعات، آپ ( یعنی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب) کا مجموعہ کلام نیز آپ بیتی وغیرہ وغیرہ سب کچھ آپ کے ذریعہ شائع ہوا اور آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ۔آپ نے کتابوں کے ریویو کرنے کا اسلوب سکھلایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک خاندان کو اخلاص اور اعلیٰ تربیت کے حسن سے آراستہ کر کے اپنی یادگار چھوڑا۔