تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 19
تاریخ احمدیت۔جلد 28 19 سال 1972ء آج دیکھو وہ اکیلی آواز، وہ خدا اور اس کے رسول کے پیار سے لبریز آواز ساری دنیا میں چکر لگارہی ہے۔پس جو کچھ ہو چکا وہ بھی دراصل ایک معجزہ ہے۔اس لئے جب ہم ایک معجزہ دیکھ چکے ہیں تو ہم آئندہ ظاہر ہونے والے معجزوں سے مایوس کیوں ہوں؟ خدا تعالیٰ وہ بھی ضرور دکھائے گا۔البتہ ضرورت اس بات کے سمجھنے کی ہے کہ جب امت محمدیہ نے یا جماعت احمدیہ نے اس سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کو نباہا ہے تو پھر ہم اپنی ان ذمہ داریوں کے نباہنے سے کیوں انکار کریں جو آئندہ نئے دور میں ہم پر پڑنے والی ہیں۔“ پھر حضور انور نے پچھلے مالی سال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔” جب ہمارا پچھلا مالی سال ختم ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت جماعت پر یہ بڑا فضل کیا تھا کہ جو ہمارا بجٹ تھا، احباب نے اس سے کہیں زیادہ چندے دیئے تھے۔اب جو بچے ہیں یا جو لوگ جماعت کے اندر نئے داخل ہونے والے ہیں وہ سمجھتے ہیں صرف مالی قربانی دے دی یہ میچ نہیں ہے اس لئے ہماری جماعت کے علماء کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ دو چیزوں کو جماعت کے سامنے پیش کیا کریں۔ایک یہ کہ جماعت نے ہر مالی سال کے شروع میں ایک اندازہ لگا کر کہ مثلاً اتنی ہماری مالی طاقت ہے اس کے مطابق جتنا منصوبہ بنایا یعنی بجٹ تیار کیا تھا اس سے زیادہ انہوں نے مالی قربانیاں دیں اور دوسرے یہ کہ ان مالی قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے جتنے پیار کی وہ توقع رکھتے تھے اس سے کہیں زیادہ پیار اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فر مایا۔“ حضور نے اس خطبہ کے آخر میں مزید فرمایا کہ:۔پس دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اقتصادی بحران جماعت احمدیہ کی قربانیوں میں کبھی روک نہیں بن سکتے۔اس واسطے تم ان دو مہینوں کے اندر خدا کی راہ میں قربانیاں دو اس یقین کے ساتھ کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیاں دو گے تو دنیوی دولت کے لحاظ سے غریب نہیں ہو جاؤ گے کیونکہ جوشخص خدا تعالیٰ کی راہ میں پیسے دیتا ہے وہ غریب نہیں ہوتا بلکہ اور زیادہ مالدار ہو جاتا ہے۔