تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 18 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 18

تاریخ احمدیت۔جلد 28 پھر حضور انور نے فرمایا:۔18 سال 1972ء ” جو جنگ اس وقت ہندوستان کے خلاف لڑی گئی ہے میرا اندازہ ہے کہ صبح سات بجے ہمارے فوجیوں سے ظالم حکومت نے جنگ بند کروا دی۔ہمارا سپاہی بڑی بے جگری سے لڑا ہے اس نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس پر بزدلی یا نا اہلی کا دھبہ نہیں آتا اس لئے میں ان کی بات نہیں کر رہا۔لیکن جن کا بھی قصور تھا اور جہاں بھی وہ فتنہ تھا اس کی وجہ سے ہتھیار ڈالے گئے تو عصر کا وقت نہیں تھا ظہر کا وقت بھی نہیں تھا۔بارہ بھی نہیں بجے تھے۔دس بجے کا بھی وقت نہیں تھا۔صبح سات بجے ہتھیار ڈال دیئے اور پھر یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آئی ؟ قرآن کریم کی واضح تعلیم کے خلاف ہے“۔12 جماعت احمدیہ کا مالی قربانی میں مثالی کردار یہ سال اقتصادیات کے اعتبار سے بہت نازک سال تھا اور جماعتی چندوں پر اس کے ناگوار اثرات کا پڑنا بظاہر ناگزیر تھا۔سیدنا حضرت خلیفہ اُسیح الثالث نے اس خطرہ کے پیش نظر مخلصین جماعت کو خصوصی ہدایت فرمائی کہ انہیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ ہر حال میں اپنی تاریخی روایات کے شایان شان قربانیوں کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔چنانچہ حضور نے اس سلسلہ میں ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ:۔دور وو غلبہ اسلام کے لئے ہماری جو عظیم جد و جہد اور عظیم مہم ہے اس کا بھی ایک ر ہے جس میں جانی اور مالی قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے یہ اتنا عظیم الشان کام ہے کہ بعض کمزور دل اور کمز ور ایمان آدمی ڈر جائیں گے وہ سمجھیں گے کہ یہ اتنا بڑا کام ہے۔یہ کیسے سرانجام پائے گا؟ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلہ میں جتنا کام اس وقت تک ہو چکا ہے وہ بھی ” کیسے ہو سکنے والا سوال تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعوی کیا تو قبل اس کے کہ کوئی ایک شخص بھی آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا۔دوسو علماء نے آپ علیہ السلام پر کفر کے فتوے لگا دیئے۔آپ کی محفل میں دوسو علماء کے کفر کے فتوے تو تھے لیکن احمدی کوئی نہیں تھا کیونکہ ابھی آپ نے بیعت لینی شروع نہیں کی تھی۔لیکن