تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 257 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 257

تاریخ احمدیت۔جلد 28 257 سال 1972ء اخلاص و قربانی میں ترقی کرتے چلے گئے اور اپنے لبنانی ہموطنوں اور دیگر عرب تاجروں میں شب وروز تبلیغ کرنے لگے جس کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے آپ دو اور لبنانی خاندانوں کو احمد بیت کی آغوش میں لانے میں کامیاب ہو گئے۔یعنی سید امین خلیل سکیکی مرحوم اور سید محمد حدرج صاحب کے خاندان۔مکرم سید محمد حدرج اور ان کی اولا د خدا تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت احمد یہ سیرالیون کے خاص اور فدائی ممبران میں شمار ہوتے ہیں۔سید حسن ابراہیم مرحوم جب تک زندہ رہے نظام سلسلہ کی پابندی ،خلیفہ وقت کی اطاعت اور مبلغین کرام سے تعاون اور ان کی خدمت کرنے کو اپنا فرض سمجھتے رہے۔خلیفہ وقت کی زیارت کے لئے مرکز سلسلہ میں آنے کے لئے بے تاب رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں سنیں اور سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ۱۹۷۰ ء میں مغربی افریقہ کے دورہ پر تشریف لے گئے اس موقعہ پرسید حسن صاحب نے حضور کی مدح میں ایک عربی قصیدہ کہا اور حضور کی موجودگی میں خود اجلاس عام میں پڑھ کر سنایا۔قصیدہ پڑھتے وقت ان پر ایسی رقت کی کیفیت طاری تھی کہ گویا وہ عشق و محبت کی کوئی واردات بیان کر رہے ہیں۔جنوری ۱۹۷۱ ء میں کچھ عرصہ کے لئے لبنان چلے گئے کیونکہ آپ کے تین بچے وہاں زیر تعلیم تھے۔لبنان سے آپ ربوہ (پاکستان) جانے کا ارادہ رکھتے تھے تا کہ اپنی بقیہ زندگی وقف کر کے اپنے آپ کو حضور کی خدمت میں پیش کر دیں مگر زندگی نے وفا نہ کی اور آپ لبنان میں اپنے گاؤں میں مختصر علالت کے بعد مارچ ۱۹۷۲ء میں وفات پاگئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کی وفات سے دو روز قبل ہی بذریعہ خواب مطلع کر دیا تھا۔138 شیخ عبد الغنی صاحب یوگنڈا مشرقی افریقہ ( وفات ۳ مئی ۱۹۷۲ء ) مولا نا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ آپ کی نسبت تحریر فرماتے ہیں:۔نہایت مخلص، دین کے لئے قربانی کرنے والے اور عبادت گزار تھے۔مبلغین سلسلہ کی خدمت اور ان کی مہمان نوازی بڑی دلی بشاشت سے کرتے۔جب بھی موقع ملتا اور مقدرت ہوتی بیروز گاروں کو اپنے حلقہ اثر میں ملازمت دلوانے کی بھر پور اور کامیاب کوشش کرتے۔نظام جماعت کے پابند اور خلفاء سلسلہ سے بے حد عقیدت رکھتے تھے۔