تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 253 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 253

تاریخ احمدیت۔جلد 28 253 سال 1972ء اسٹیج کے قریب جا کر بیٹھ گئے۔پروگرام کے مطابق جب اس جلسہ کے منتظمین نے احمدیوں کوللکارا اور کہا کہ کہاں ہیں قادیانی تو یہ اسٹیج پر کھڑے ہو گئے۔ان کی موجودگی نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔لہذا غیر احمدی مولوی بڑے برہم ہوئے اور فساد پر اتر آئے ان کو زدوکوب کیا۔اس وقت زمانہ اچھا تھا۔ڈیوٹی پر پولیس آفیسر ان کی مدد کو پہنچے اور بچا کر ان کو گھر چھوڑ گئے۔اس ہاتھا پائی میں ان کو زخم بھی آئے۔ایک زخم چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا کبھی کبھار ذکر کر کے یہ داغ دکھایا بھی کرتے تھے۔ان کی علمی اور دینی صلاحیت جلد شہرت پا گئی۔کراچی کے مذہبی حلقوں میں جلد متعارف ہو گئے۔باوجود اختلاف عقیدہ غیر احمدی علماء بھی ان کی عزت کرتے اور بعض اوقات یہ علمی اشکال کے حل کے لئے ان کی استعداد سے فائدہ اٹھاتے۔بابو صاحب اپنی چھٹیاں بھی دعوت الی اللہ میں گزارتے۔اس کام میں دو مخلصین ان کی معاونت کرتے۔پہلے محترم مرزا عبدالحکیم بیگ تھے۔دوسرے محترم رفیع الزماں خاں تھے۔نیز دونوں بڑے استقلال سے ان کا ساتھ دیتے تھے۔بابو صاحب کثیر الا ولا دتھے تین بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔۱۴ مارچ ۱۹۷۲ء کو حرکت قلب بند ہونے سے آپ کی وفات ہوئی۔133 مولوی عبید الرحمن صاحب فانی درویش قادیان (وفات ۱۴ مارچ ۱۹۷۲ء) مرحوم ۱۹۴۶ ء میں احمدی ہوئے تھے اور جلد ہی حضرت مصلح موعود کی تحریک پر دیہاتی مبلغین کلاس میں شامل ہو گئے۔درویشی کا صبر آزما زمانہ بڑی خوشدلی اور استقلال سے گزارا۔اپنے حلقہ تبلیغ میں اپنے فرائض کو خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے رہے۔134 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۹۴۴ء میں تحریک فرمائی تھی کہ کم عرصہ میں ٹریننگ دے کر معلم تیار کئے جائیں جو دیہاتی علاقوں میں بچوں کو قرآن کریم اور ابتدائی دینی مسائل پڑھا سکیں۔مدرسہ احمدیہ میں جو مبلغ تعلیم پاتے ہیں وہ آٹھ سال میں میدان عمل میں جانے کے قابل ہوتے ہیں۔یہ عرصہ زیادہ ہے ہمیں جلد معلمین کی ضرورت ہے۔یہ تربیتی میدان میں کام کریں گے۔مدرسہ احمدیہ یہ سے فارغ ہونے والے مرکزی مبلغین کی جگہیں پر کریں گے۔اس لئے نوجوان دیہاتی معلمین کیلئے زندگیاں وقف کریں۔اس تحریک میں ۱۹۴۴ء میں داخل ہونے والے ایک سال کی ٹریننگ پا کر ۱۹۴۵ء میں میدان عمل میں چلے گئے پھر ۱۹۴۵ء میں داخل ہونے والے ایک سال ٹریننگ پا کر