تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 235
تاریخ احمدیت۔جلد 28 235 سال 1972ء آپ کے چھ بیٹے ۱۴، ۱۵ سال کی عمر تک پہنچ کر وفات پاگئے مگر آپ نے انتہائی صبر کا نمونہ دکھایا۔جب آپ کے سب سے چھوٹے بیٹے فضل الرحمن صاحب کی وفات ہوئی تو اس وقت وہ سکول جانے کی عمر کو تھا تو آپ اپنی تمام بیٹیوں کو گھر کی چھت پر لے گئے اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا کی چیز تھی وہ اپنے پاس لے گیا۔آپ غیر معمولی طور پر مہمان نواز تھے۔ملنے ملانے والوں کا جھمگٹا رہتا تھا۔تعلیم سے دلی لگاؤ تھا اس زمانہ میں اپنی بیٹی فاطمہ بیگم صاحبہ کو قادیان بھجوا کر میٹرک کروایا جبکہ ان کے اس کام کی گھر میں بہت مخالفت ہوئی تھی۔آپ اپنے علاقے کی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔رفاہ عامہ کے بے شمار کام کرنے کی توفیق پائی۔گاؤں میں ایک عدد مویشی ہسپتال اور ایک دوسرا ہسپتال اپنی زمین دے کر بنوایا۔بہت سے یتیم رشتہ داروں اور غیروں کی پرورش کی۔آپ ایک دیانتدار پٹواری تھے۔آپ کا گاؤں زیادہ تر ہندوؤں اور سکھوں کا تھا اس لئے ۷ ۱۹۴ء کی لوٹ مار میں جو سٹور سامان سے بھرے تھے ان کی چابیاں آپ کے ذمہ تھیں۔جب کوئی لٹا ہوا مہاجر خاندان آپ کے گاؤں پہنچتا تو اس کو ساتھ لے کر سٹور سے ان کو ضروریات زندگی کی چیزیں دیتے اور اپنے گھر والوں کو سمجھا رکھا تھا کہ یہ سب مال ہمارے گھر پر حرام ہے۔ایک تنکا بھی ہم پر حلال نہیں ہے۔اسی خوبی کے ضمن میں آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ وہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے رفیق اور بہت ہی فدائی اور عاشق انسان تھے۔زندگی کا اکثر حصہ دیہی جماعت کے امیر رہے یہ اس دور کے لوگ ہیں پٹواریوں میں ولی پیدا ہونا شاذ کی بات ہوا کرتی تھی۔وفات کے وقت آپ بہت کمزور ہوچکے تھے۔مگر بیت الحمد جایا کرتے تھے۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے اہل خانہ جب آپ کے کمرہ میں گئے تو وہاں لکڑی کے تخت پر چاک سے موٹا موٹا لکھا ہوا تھا۔” میں گیارہ نومبر کو ربوہ جاؤں گا۔اا نومبر کو آپ کی وفات ہوئی اور اسی روز جنازہ ربوہ لے جایا گیا۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔آپ کی بیٹی مکرمہ فاطمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم محمود احمد چیمہ صاحب مربی سلسلہ کی غائبانہ نماز جنازہ حضرت خلیفۃ اسیح الرابع نے اپنی اہلیہ محترمہ حضرت آصفہ بیگم صاحبہ کے ساتھ پڑھائی اور خطبہ جمعہ میں ذکر خیر فرمایا۔101