تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 234
تاریخ احمدیت۔جلد 28 234 سال 1972ء حضرت پیر محمد صاحب کی سب سے چھوٹی صاحبزادی محترمہ سکینہ بی بی صاحبہ کی شادی ۱۹۴۸ء میں مکرم محمد عبد اللہ چیمہ صاحب ابن حضرت مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہوئی۔حضرت میاں پیر محمد صاحب پیر کوئی صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی دنیوی رکھ رکھاؤ اور ظاہری نمود و نمائش و بد رسوم کے قائل نہ تھے لہذا بڑی سادگی سے یہ شادی عمل میں آئی۔98 اولاد: جناب محمد اسماعیل صاحب پیرکوٹ ( آپ کے ایک بیٹے مکرم نصیر احمد شاہد صاحب مربی سلسلہ سابق مبلغ نائیجریا اور آج کل ایڈیشنل نظارت اصلاح وارشاد دعوت الی اللہ میں خدمات بجالا رہے ہیں۔اسلام احمد شمس صاحب مربی سلسلہ اصلاح و ارشاد مرکز یہ آپ کے پوتے ہیں۔) مولوی محمد عبد اللہ صاحب آف کریم نگر سندھ واقف زندگی ( مکرم ڈاکٹر صفی اللہ صاحب امیر ضلع میانوالی آپ کے بیٹے ہیں۔مولوی سلطان احمد صاحب پیر کوئی ربوہ واقف زندگی۔عائشہ بی بی صاحبہ اہلیہ میاں حسین بخش صاحب۔سکینہ بی بی صاحبہ اہلیہ محد عبد اللہ چیمہ صاحب آف ڈنگہ کارکن وقف جدیدر بوہ۔فاطمہ بی بی صاحبہ اہلیہ فضل احمد صاحب ( والدہ مکرم سلطان احمد شاہد صاحب نظارت اشاعت )۔رابعہ بی بی اہلیہ مولوی محمد سعید فاضل انسپکٹر بیت المال۔رحمت بی بی صاحبہ اہلیہ نورالدین صاحب خوشنویس 99 حضرت چوہدری عبداللہ خان صاحب ولادت : ۱۸۹۰ء تحریری بیعت : ۱۹۰۱ ء دستی بیعت : ۱۹۰۴ ء وفات : ۱۱ نومبر ۱۹۷۲ء 100 آپ کا تعلق قلعہ کالر والا ضلع سیالکوٹ سے تھا۔آپ نے ۱۴ سال کی عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔آپ مڈل جماعت تک پڑھے ہوئے تھے۔بہت روشن دماغ کے مالک تھے۔اپنے علاقہ میں ”بابا جی آردو خان کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔آپ پوہلہ مہاراں، گھٹیالیاں، دا تا زید کا وغیرہ کے امیر جماعت بھی رہے۔گھٹیا لیاں کالج کی تعمیر بھی آپ نے کروائی اس سلسلہ میں مرکز نے خاص طور پر روپیہ پیسہ اور تمام حساب کتاب کے معاملہ میں آپ پر اعتماد کا اظہار کیا۔دوران تعمیر صبح سے شام تک نگرانی کیا کرتے تھے۔خلافت احمدیہ سے خاص انس اور تعلق تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے سامنے اپنی ایک خواہش کا اظہار اس طرح کیا کہ حضورا گر میرا کوئی بیٹا زندہ ہوتا تو میں دین کی راہ میں وقف کرتا۔حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار بیٹیاں دے رکھی ہیں کسی کی شادی وقف زندگی سے کردیں آپ کی خواہش پوری ہو جائے گی۔