تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 212 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 212

تاریخ احمدیت۔جلد 28 212 سال 1972ء سیر کے وقت حضور علیہ السلام کا یہ بھی دستور تھا کہ مولوی فخر الدین ملتانی کی دکان ( یہ دکان بعد میں بنائی گئی) کے قریب ٹھہر جاتے اور فرماتے کہ مولوی صاحب کو بلا و یا نواب صاحب کو بلاؤ۔جب دوست آ جاتے تو پھر سیر کے لئے چلتے۔شہتوت کے ایام میں اپنے باغ سے شہتوت بھی منگوا یا کرتے تھے اور اکٹھے بیٹھ کر کھایا کرتے تھے۔کبھی بعض دوست سیر میں نظمیں بھی سنایا کرتے تھے۔میر مہدی حسین صاحب جب پہلی دفعہ ب جب پہلی دفعہ قادیان میں آئے تو انہوں نے بھی بڑ کے راستے میں نظم پڑھ کر سنائی تھی۔میں نے شیخ عبدالرحیم صاحب سے سنا تھا کہ جب وہ اسلام میں آئے اس سے قبل وہ حضرت سے کچھ دریافت کرتے۔ایک سوال وہ کرتے اور دوسرا ابھی دل میں ہوتا تو حضرت دوسرے کا بھی جواب دے دیتے جس پر میں مسلمان ہو گیا۔قاضی صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت ہم طالب علم سیر میں حضور کے دائیں اور بائیں اور آگے نکل جاتے تھے اور میں اکثر حضور علیہ السلام کا شملہ مبارک اپنی آنکھوں سے لگا یا کرتا تھا اور میں یہ یقین رکھتا تھا کہ اس کی برکت سے میری آنکھیں نہیں دُکھیں گی۔میں اور میرے کلاس فیلو ملک نور خان بعض سفروں میں بھی حضور کے ساتھ گئے ہیں مثلاً لاہور اور گورداسپور کے سفر۔حضور اپنی نسبت فرماتے کہ خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ بڑے بڑے وعدے کئے ہیں۔فرماتے تھے كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِی فرماتے یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ کب اور کس وقت یہ وعدے پورے ہوں گے مگر یہ سنت اللہ ہے اور اسی طرح یہ بھی ہو گا۔میرے معاملہ میں جلد بازی نہ کرو۔۔۔طاعون کے دنوں میں حضور صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے۔بہت سی گندھک وغیرہ جلائی جاتی تھی۔ایک دفعہ حضور کو درد گردہ کی تکلیف ہوئی۔ہم طالب علم پڑھ کر درخت کے نیچے میروڈ بہ کھیلتے تھے جب ہم کو پتہ لگا تو ہم کھیل چھوڑ کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت اقدس نے سب طالبعلموں کو دیکھ کر فرمایا کہ دعا کرو۔61 ستمبر ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وقف زندگی کی پہلی منظم تحریک فرمائی جس پر آپ نے لبیک کہا۔حضرت اقدس نے اپنے قلم مبارک سے آپ کی درخواست پر لکھا: