تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 209 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 209

تاریخ احمدیت۔جلد 28 209 سال 1972ء عطر دین صاحب بھی تھے جو بعد ازاں ڈاکٹر عطر دین مشہور ہوئے اور آجکل قادیان میں درویشی کی من زندگی بسر کر رہے ہیں۔میٹرک پاس کرنے کے بعد میں نے اسلامیہ کالج انجمن حمایت اسلام لاہور میں داخلہ لیا اور جب موسمی تعطیلات میں اپنے گاؤں واپس گیا تو میرے ایک چا زاد بھائی چوہدری جیوے خاں صاحب بھی احمدی ہو چکے تھے اور ارد گرد کے دیہات کر یام، سر وعہ، کاٹھ گڑھ اور بنگہ وغیرہ جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔تعطیلات کے ایام میں چوہدری جیوے خاں صاحب مذکور مجھے چوہدری غلام احمد صاحب سکنہ کر یام سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں لا کر دیا کرتے تھے جن کو میں نے خوب پڑھا۔چنانچہ مجھ پر احمدیت کی صداقت ظاہر ہو گئی اور میں نے اپریل ۱۹۰۴ء میں قادیان جا کر حضور کی بیعت کر لی۔فالحمد للہ علی ذالک۔ایف اے کا امتحان دینے کے بعد ۱۹۰۵ء میں قادیان شریف میں ایک مکان کرایہ پر لیا اور ایک سال لگا تار نمازوں، درسوں اور جلسوں میں شامل ہو کر حضور کی صحبت سے مستفیض ہوتا رہا۔جب حضور نے رسالہ الوصیت لکھا تو خاکسار نے بھی تھوڑا عرصہ بعد ۱۵ نومبر ۱۹۰۶ء کو اپنی جائیداد غیر منقولہ کی وصیت زیر نمبر ۱۵۲ کی اور پھر اس سلسلہ میں حصہ آمد کی وصیت ۲۸ دسمبر ۱۹۳۱ء کو کی۔جن ایام میں طاعون زوروں پر تھی ہمارا ایک تایا زاد بھائی چوہدری حمایت خاں طاعون میں گرفتار ہو گیا۔ایک ڈاکٹر نعمت خاں نامی کو ہم نے علاج کے لئے بلا یا اس نے ملاحظہ کے بعد کہا کہ اس کے پھیپھڑے خراب ہو گئے ہیں اور یہ ہرگز بیچ نہیں سکتا۔اب خواہ مرزا صاحب بھی اس کے لئے دعا کریں اس کا طاعون سے خلاصی پانا ناممکن ہے۔یہ بھی کہا کہ اگر شخص طاعون کا شکار ہونے سے بچ جائے تو میں بھی احمدی ہو جاؤں گا۔ڈاکٹر صاحب کے چلے جانے کے بعد پہلے تو ہم سب احمدی احباب نے مریض کی شفایابی کے لئے مل کر دعا کی اور صدقہ کیا۔پھر میں نے نواں شہر جا کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لئے تار دیا۔خدا کی قدرت کہ تار دینے کی دیر تھی کہ مریض کی حالت سدھرنے لگی اور تھوڑے دنوں میں وہ بالکل تندرست ہو گیا۔گویا مردہ زندہ ہو گیا۔یہ نشان دیکھ کر چوہدری حمایت خاں صاحب نے تو بیعت کر لی اور مخلص احمدی بن گئے مگر ڈاکٹر صاحب اپنے قول سے پھر گئے۔“ محترم چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ : ” میرے بڑے بھائی صاحب میری شادی کا انتظام ہمارے غیر احمدی مالدار اور صاحب جائیدا درشتہ داروں میں کرنا چاہتے تھے مگر میرا دل کسی احمدی رشتہ کی تلاش میں تھا سو اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ مخالف حالات کے باوجود میری شادی محترم بابو