تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 179
تاریخ احمدیت۔جلد 28 179 سال 1972ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے بارہ میں نہایت وجد آفریں خطاب فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت کے ساتھ قرآن عظیم جیسی ہدایت اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا اسوہ حسنہ ہمیں عطا فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم کے ذریعہ یہ اعلان کیا کہ یہ رسول صلی یلم قیامت تک کے لئے تمام بنی نوع انسان کے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اول المسلمین بھی تھے اور صفات باری تعالیٰ کے مظہر اتم بھی۔اللہ تعالیٰ کی اتم الصفات سورۃ فاتحہ میں چار بتائی گئی ہیں۔رب۔رحمان۔رحیم۔مالک یوم الدین۔حضور نے چاروں صفات کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کی روشنی میں الگ الگ نہایت لطیف اور پر معارف تشریح فرمائی اور پھر بتایا کہ ان ام الصفات کی پہلی اور کامل جلوہ گاہ انسان کامل یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک و مطہر دل ہے جو ان صفات کا مظہر اتم تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ حسن و احسان کے کامل جلوے ہمیں نظر آئے۔ہماری جماعت کے تمام افراد کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو اپنے کمال تک پہنچا کر اپنے اپنے دائرہ استعداد میں ان چاروں صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے اور اس طرح صحیح معنوں میں اسوہ نبی کی اتباع کرنے کی کوشش کریں تا کہ ہم میں بھی خدا کے حسن و احسان کے جلوے نظر آئیں۔ہمارے نفس کے سب جوش ٹھنڈے ہو جا ئیں سب کے ساتھ ہمدردی اور محبت سے پیش آئیں۔کوئی اگر ہمیں گالیاں بھی دے تو ہم جوش میں نہ آئیں بلکہ وہی رد عمل ظاہر کریں جو خدا کے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے گالیوں کے جواب میں ظاہر کیا۔ہم نے اپنی تمام استعدادوں کو اسوہ نبوی کے مطابق دنیا کی بھلائی کے لئے استعمال کرنا ہے۔ہم اسی لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ ہم اپنے آنسوؤں کے پانی سے دنیا کے غضب و قہر کی آگ کو ٹھنڈا کریں۔قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے اور اسی سے ہم اپنے خدا کا قرب حاصل کر سکتے ہیں اور یاد رکھو کہ زندگی وہی ہے جو ہمیں اپنے خدا کے قریب کرے خدا سے دور رہنے میں تو زندگی کا کوئی مزا ہی نہیں ہے۔خدا کرے کہ ہم سب اللہ تعالیٰ کی ام الصفات کے مظہر بن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اختیار کرنے والے بن جائیں تا کہ دنیا آج ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلوے دیکھ سکے۔آمین۔اپنی بصیرت افروز تقریر کے آخر میں حضور نے ملک کے موجودہ افسوسناک حالات کا ذکر کرتے ہوئے ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے خصوصیت کے ساتھ دعائیں کرنے کی تحریک فرمائی۔حضور