تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 162 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 162

تاریخ احمدیت۔جلد 28 162 سال 1972ء اگلے خطبہ جمعہ ( مورخہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء) میں فرمایا کہ میں نے ربوہ کے اطباء کے ذمہ یہ کام لگا یا تھا کہ وہ ہر گھر جا کر جائزہ لیں کہ ربوہ میں کتنے مریض ہیں اور کس قسم کے مریض ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ میرے پاس جور پورٹ آئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان دنوں ربوہ میں ۱۶۳۲ مریض تھے۔جنہیں مختلف امراض لاحق تھیں۔حضور انور نے صدر ان محلہ اور ان کی مجالس عاملہ کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے محلہ وار صدر صاحبان اور ان کی مجالس عاملہ کا انتظام کیا ہوا ہے اور ایک صدرعمومی ہیں یہ ان کے فرائض میں سے ہے کہ وہ محلہ میں رہنے والوں کی ضرورتوں کا خیال رکھیں اور ایک بڑی ضرورت (احساس کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں سب سے بڑی ضرورت ) یہ ہے کہ کسی گھر میں اگر کوئی بیمار ہے تو اس کا علاج تسلی بخش طور پر ہونا چاہیے۔حضور انور نے درختوں کے حوالہ سے بیان فرمایا کہ لوگ گھروں میں تو درخت لگا رہے ہیں۔انہیں باہر سڑکوں اور کھلی جگہوں پر درخت لگانے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے درختوں کے ذمہ بہت سے کام لگائے ہیں اور ان کے بہت سے فوائد ہیں جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان فرمایا ہے۔حضور انور نے یوکلپٹس کے درخت کی مثال دی کہ یہ ملیریا کی روک تھام اور کلر زدہ زمین کو آباد کرنے کے لئے بہت مفید ہے۔حضور انور نے یوکلپٹس کے بارہ میں فرمایا کہ بہاولپور کی طرف ایک بہت بڑا علاقہ تھا جہاں کوئی درخت نہیں اگتا تھا۔دس پندرہ سال پہلے کی بات ہے اس وقت کی حکومت نے مشورہ کے لئے آسٹریلیا سے ماہرین منگوائے اور لاکھوں روپیہ ان پر خرچ کیا۔وہ یہاں پر چھ مہینے یا سال رہے اور ہیں لاکھ روپیہ خرچ کر دیا اور دو سطروں میں اپنی رپورٹ لکھ کر چلے گئے کہ یہاں یوکلپٹس کے سوا اور کوئی درخت نہیں لگ سکتا۔انہی دنوں محکمہ زراعت کے ایک بڑے افسر جو میرے واقف تھے وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے چونکہ یوکلپٹس کے متعلق تجربہ کیا ہوا تھا میں نے ان سے کہا کہ آپ نے خواہ مخواہ آسٹریلیا والوں کو تکلیف دی۔مجھ سے پوچھ لیتے کیونکہ میرا یہی مشاہدہ ہے کہ جو حالات انہوں نے بتائے ان میں ایسی جگہوں پر یوکلپٹس ہی لگ سکتا ہے۔165 ربوہ میں پہلا گھر دوڑ ٹورنامنٹ ربوہ میں ۹ - ۱۰ دسمبر ۱۹۷۲ء کو شعبہ صحت مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے زیر اہتمام پہلا گھر دوڑ