تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 161 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 161

تاریخ احمدیت۔جلد 28 161 سال 1972ء بلکہ ایک مسلمان کی جان کی حفاظت کے لئے (جس کی قیمت زیادہ ہے ) غالباً نو درخت کاٹنے پڑے تھے جس پر قرآنی وحی نازل ہوئی کہ یہ درخت ہمارے حکم سے کالے گئے ہیں۔غرض اتنی چھوٹی سی استثنائی صورت کا ذکر حکمت سے خالی نہیں ہے آخر نو درخت ہیں کیا چیز ؟ لیکن چونکہ امت مسلمہ کو یہ سبق دینا مقصود تھا کہ اتنی اہم ضرورت کے لئے نو درخت کاٹنے پر بھی اللہ کا الہام نازل ہوا۔گو اس طرح آئندہ کے لئے بوقت ضرورت درخت کاٹنے کی اجازت تو مل گئی لیکن اس سے بالواسطہ طور پر درخت خواہ وہ سایہ دار ہوں یا پھلدار ہوں ان کے نہ کاٹنے بلکہ نئے درخت لگانے اور ان کی حفاظت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔162 66 انفلوئنزا کا شدید حملہ اور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خصوصی ہدایات ۱۹۱۸ء کی طرح ۱۹۷۲ء میں بھی برصغیر اور بعض دوسرے ممالک پر انفلوئنزا کا شدید حملہ ہوا۔ربوہ میں بھی بڑے اور چھوٹے بچے بڑی کثرت سے اس بیماری کی لپیٹ میں آگئے۔الغرض بہت سے گھر اس وباء میں مبتلا ہو گئے۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے احباب جماعت سے تحریک فرمائی کہ وہ ان ایام میں پانی ابال کر پئیں۔اگر پانی بد مزہ لگے تو سبز چائے کی پتی اس میں ڈال لیں۔ابلا ہوا پانی معدہ اور انتڑیوں کے لئے مفید ہے۔علاوہ ازیں ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء کو خاص طور پر ایلو پیتھی ، طب یونانی ( مسلم طب) اور ہومیو پیتھی طریق ہائے علاج پر بصیرت افروز رنگ میں تبصرہ کیا اور احباب جماعت کو نصیحت فرمائی کہ امراض کی تکالیف اور اس کے نتائج سے بچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان دوا بھی کرے اور خدا کے حضور بھی جھکے نیز اپنے تجربات کی روشنی میں مشورہ دیا کہ علاج سمیت ہر کام میں عقل وفراست سے کام لیں حتی الوسع آپریشن سے پر ہیز کریں اور مہلک ادویہ کا استعمال سوائے شدید ضرورت کے نہیں کیا جانا چاہیے۔اس تعلق میں حضور نے متعدد واقعات بھی بیان فرمائے۔163 طبی مشورہ کے لئے ایک ہنگامی میٹنگ ۲۵ نومبر ۱۹۷۲ء کوسیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بغرض مشورہ جملہ ایلو پیتھ اور ہومیو پیتھ ڈاکٹروں اور طبیبوں کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب فرمائی 164 اس کی کارروائی کی نسبت حضور نے خود