تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 157
تاریخ احمدیت۔جلد 28 157 سال 1972ء ”ہر پڑھے لکھے پر یہ بات مخفی نہیں کہ علماء متقدمین اہل قبلہ کی تکفیر سے اجتناب کرتے تھے۔موجودہ دور میں بھی ایسے علماء کی کمی نہیں جو اسلامی فرقوں کے کسی بھی فرد پر کفر کا فتویٰ لگانا پسند نہیں کرتے۔انقلاب سے تقریباً دس بارہ سال پہلے انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں میں نے سردار اہلحدیث مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم کی زبان سے خود یہ الفاظ سنے ( میں کسی اسلامی فرقہ کو کافر نہیں کہتا یہاں تک کہ میں مرزائیوں کی تکفیر سے بھی اجتناب کرتا ہوں ) مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم تو صالحین اہل کتاب کے جنت میں جانے کے قائل تھے پھر اس کے متعلق کسی اسلامی فرقہ پر کفر کا فتویٰ لگانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔حضرت خالد بن ولید ( سہو ہے اصل حضرت اسامہ بن زید ) کا واقعہ ہر پڑھے لکھے کو معلوم ہے کہ ایک جنگ میں دشمن نے آپ کا سخت مقابلہ کیا۔دشمن کو جب شکست ہونے لگی اس نے فوراً کلمہ طیبہ پڑھ لیا۔لیکن حضرت خالد نے جوش میں اسے قتل ہی کر دیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے حضرت خالد سے جواب طلبی کی۔حضرت خالد نے جواب دیا کہ اس نے اپنی جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یاهلا شققت قلبہ تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا تھا؟ فقہ حنفیہ کا مشہور اصول ہے کہ اگر ایک شخص میں نانوے باتیں کفر کی اور ایک ایمان کی ہو تو اسے کا فرنہیں کہنا چاہیے۔کلمات کفر کی تاویل کی جائے گی جو بات ایمان کی کہی اس کی کوئی تاویل نہیں۔یہی وجہ ہے کہ حنفیہ مسلک کے محتاط علماء کسی بھی اسلامی فرقہ پر فتویٰ نہیں لگاتے۔اس دور میں جبکہ اسلام دشمن طاقتیں اسلام کو سرے سے ہی مٹانے پر آمادہ ہیں، دوراندیشی یہ ہے کہ سارے اسلامی فرقے جمع ہو کر اسلامی شجر کی حفاظت کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔158 ایبٹ آباد میں جماعتی تعمیرات نذرآتش 66 صوبہ سرحد میں کاکول ( ایبٹ آباد) کے قریب جماعت احمدیہ کے زیر انتظام متعدد مکانات رہائشی ضروریات کے پیش نظر تعمیر کئے گئے تھے جن کو اکتوبر ۱۹۷۲ء میں شرارت پسند عناصر نے نذر آتش کر دیا۔مذہبی تعصب اور فرقہ پرستی کے اس افسوسناک مظاہرہ کی عبدالقیوم خاں وزیر داخلہ حکومت پاکستان نے پرزور مذمت کی۔اس ضمن میں اخبار جنگ (راولپنڈی) کی ۲۸ /اکتوبر ۱۹۷۲ء کی اشاعت میں حسب ذیل خبر شائع ہوئی۔