تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 156 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 156

تاریخ احمدیت۔جلد 28 156 سال 1972ء حضور انور نے اپنے اختتامی خطاب سے قبل اپنے دست مبارک سے ناظمین اعلیٰ علاقائی اور ناظمین اضلاع کو اسناد خوشنودی نیز تعلیمی امتحانات میں اول اور دوم آنے والے انصار اور اجتماع کے موقع پر منعقد ہونے والے تقریری اور ورزشی مقابلہ جات میں امتیاز حاصل کرنے والی مجالس اور انصار کو انعامات عطا فرمائے۔حضور انور کا اختتامی خطاب بعد ازاں حضور انور نے ایک بصیرت افروز خطاب میں منافقین سے متعلق قرآنی تعلیم کی وضاحت فرمائی۔حضور انور نے اس موقع پر اپنی ایک خواہش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ” میری ایک خواہش یہ ہے کہ پاکستان کے ہر گاؤں میں ہماری جماعت کی طرف سے طبع کردہ قرآن مجید کا کم از کم ایک نسخہ پہنچ جانا چاہیے۔لجنات ہر اس قربانی میں شامل ہیں جو مرد کرتے ہیں مثلاً فضل عمر فاؤنڈیشن اور نصرت جہاں ریز روفنڈ کی تحریکوں میں وہ برابر کی شریک ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بعض کام ایسے کرتی ہیں جن میں مردوں کو شریک نہیں کرتیں مثلاً انہوں نے یورپ میں متعدد مساجد اپنے چندوں سے تعمیر کرائی ہیں۔اب لجنہ اماءاللہ نے اپنے قیام کی پنجاہ سالہ تقریب کے موقعہ پر دو لاکھ کی رقم پیش کی ہے کہ اسے میں جس کام پر چاہوں خرچ کروں۔میرے سامنے سب سے اہم کام اشاعت قرآن کا ہے سو یہ رقم اس کام پر ہی خرچ کی جائے گی۔پس میں آپ سے کہتا ہوں اپنے دائرہ خدمت کو وسیع کریں اور قرآن کریم کی برکت کو اگر گھر گھر نہیں تو کم از کم قریہ قریہ پہنچانے کی کوشش کریں۔یہ قطعاً مشکل نہیں ہے ہر گاؤں میں قرآن مجید کا ایک ایک نسخہ بآسانی پہنچایا جا سکتا ہے۔157 ایک اہلحدیث عالم کا اہم بیان بابت تکفیر جماعت احمدیہ اہل حدیث عالم مولوی محمد عطاء اللہ صاحب حنیف (مدیر الاعتصام لاہور ) نے لکھا کہ قادیانی اور لاہوری احمدی دونوں کا فر ہیں۔اس پر ایک روشن خیال اہل حدیث عالم مولوی محمد لکھوی صاحب نبیرہ مولانا حافظ محد لکھوی صاحب) نے زبر دست نوٹس لیا اور اس کے جواب میں ایک بیان شائع کیا جس کے آغاز میں تحریر کرتے ہیں کہ