تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 140
تاریخ احمدیت۔جلد 28 140 سال 1972ء انڈونیشیا کے ماحول کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے کیونکہ وہاں کی لڑکیاں شادی سے پہلے بڑوں کے ساتھ گھل مل کر رہنا پسند نہیں کرتیں۔سال میں ایک بار جماعت انڈونیشیا جلسہ سالانہ منعقد کرتی ہے جس میں تمام اراکین شامل ہوتی ہیں۔اس جلسہ سالانہ میں لجنہ اماءاللہ اپنا کام بڑی مستعدی سے سرانجام دیتی ہے۔ان کے سپر دکھانا تیار کرنا اور جلسہ میں شامل ہونے والے اراکین کو کھا نا کھلانا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ لجنہ اماءاللہ کی مجلس عاملہ کچھ اجلاس بلاتی ہے جس میں تمام شاخوں کی نمائندہ شامل ہوتی ہیں۔یہ نمائندے تین سال کے لئے مرکزی مجلس عاملہ کے عہدیدار منتخب کرتے ہیں مرکزی مجلس عاملہ پچھلے سال (یعنی ۱۹۷۱ء میں ) اپنا مجلہ شائع کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جس کا نام ”سوار الجنہ “ یعنی لجنہ کی آواز ہے۔یہ مجلہ ہر تین ماہ بعد شائع ہوتا ہے (اب یہ ماہوار ہو چکا ہے ) بانڈونگ کے شہر میں ایک ہوٹل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں کالج کے لڑکے رہائش پذیر ہوتے ہیں اور یہ ہوٹل با نڈونگ کی لجنہ کی زیر نگرانی کام کرتا ہے۔لجنہ اماءاللہ پندرہ روزہ تربیتی کیمپ میں جو خدام الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ کے لئے منعقد کیا جاتا ہے بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتی ہیں۔یہ تربیتی کیمپ ۱۹۵۱ء سے لے کر اب تک ہر سال منعقد ہوتا ہے۔لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ کے قوانین وضوابط کے مطابق انڈونیشیا کی لجنہ بھی اپنے اصول وقوانین مرتب کر رہی ہے۔مرکزی مجلس عاملہ انڈونیشیا وقتا فوقتا اپنے نمائندے مختلف شاخوں میں بھجواتی ہے۔موصیات کی تعداد چالیس ہے۔لجنہ کی ممبرات باقاعدگی سے احمد یہ مسجد میں جمعۃ المبارک کی نماز ادا کرتی ہیں اور اس کے بعد درس میں شریک ہوتی ہیں۔اسی طرح خدمت خلق کے مختلف کاموں میں مثلاً تامی، بیواؤں اور غرباء کی امداد کرتی ہیں۔مالی تحریکوں اور قربانیوں میں خاص طور پر تحریک جدید اور قرآن کریم کے انڈو نیشین زبان میں ترجمہ کے خصوصی فنڈ ا کٹھا کرنے میں پیش پیش ہیں۔137 ۳۔لجنہ نیروبی ( کینیا ) کی جنرل سیکرٹری۔نیروبی کی لجنہ کی جنرل سیکرٹری محترمہ صبیحہ منان قریشی صاحبہ نے تمام ممبرات لجنہ نیروبی کی طرف سے محبت بھر اسلام پہنچاتے ہوئے کہا:۔لجنہ اماءاللہ مرکز یہ کا یہ سالانہ اجتماع اس کی پچاس سالہ جو بلی کے موقع پر انعقاد پذیر ہورہا ہے اور طبعاً آج اپنے محسن اور ہمارے آقا حضرت مصلح موعود کی عنایت کی خوشکن یاد ہمارے قلوب میں تازہ ہو رہی ہے۔آپ نے پچاس سال پہلے عورتوں کو معاشرے میں ان کا جائز مقام دلوانے اور ان