تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 131 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 131

تاریخ احمدیت۔جلد 28 131 سال 1972ء ہے۔لیکن اس سوال کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس بری حالت سے نکالنے کے لئے کیا انتظام فرمایا ہے؟ مولوی عبد الرحیم اشرف صاحب کا متعلقہ بیان درج ذیل ہے۔”ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع ہوتی گئی۔مرزا صاحب کے بالمقابل جن لوگوں نے کام کیا ان میں سے اکثر تقویٰ تعلق باللہ، دیانت ، خلوص، علم اور اثر کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شخصیتیں رکھتے تھے۔سید نذیر حسین صاحب دہلوی، مولانا انورشاہ صاحب دیوبندی ، مولانا قاضی سید سلیمان منصور پوری ، مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی ، مولانا عبد الجبار غزنوی ،مولانا ثناء اللہ امرتسری اور دوسرے اکابر رحہم اللہ وغفر لہم کے بارے میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر ورسوخ بھی اتنازیادہ تھا کہ مسلمانوں میں بہت کم ایسے اشخاص ہوئے ہیں جو ان کے ہم پایہ ہوں۔اگر چہ یہ الفاظ سننے اور پڑھنے والوں کے لئے تکلیف دہ ہوں گے اور قادیانی اخبار اور رسائل چند دن انہیں اپنی تائید میں پیش کر کے خوش ہوتے رہیں گے۔لیکن ہم اس کے باوجود اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان اکابر کی تمام کوششوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضافہ ہوا ہے۔متحدہ ہندوستان میں قادیانی بڑھتے رہے۔تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پاؤں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں ان کا یہ حال ہے کہ ایک طرف تو روس اور امریکہ کے سرکاری سطح پر آنے والے سائنسدان ربوہ آتے ہیں اور دوسری جانب ۵۳ ء کے عظیم تر ہنگامہ کے باوجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اس کا ۱۹۵۶-۵۷ء کا بجٹ پچیس لاکھ روپے کا ہو۔“ 127 لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا پنجاه سالہ جشن اور اس کے عالمی نظام اور کارناموں پر ایک نظر ۱۹۷۲ء کی یہ اہمیت و خصوصیت بھی ہے کہ اس میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی انقلاب آفرین عالمی تنظیم نے اپنا پچاس سالہ جشن منا کر اپنی عظیم الشان تاریخ کا نیاورق الٹا اور ایک نے سنہری باب کو رقم کرنے کے لئے پوری شان و شوکت کے ساتھ نئے دور میں قدم رکھنے کی توفیق پائی۔