تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 101
تاریخ احمدیت۔جلد 28 101 سال 1972ء کے علاوہ کسی اور ہستی کی خشیت تمہارے دل میں پیدا ہوگی ؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔خواہ ہمارے اوپر بظاہر کمزوری کا دور آئے اور مخالفت کی آندھیاں چلیں اس صورت میں بھی ہم نے اس بات سے نہیں ڈرنا کہ شیطان جیتے گا اور خدا تعالیٰ کے وعدے پورے نہیں ہوں گے۔خدا تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے خدا تعالیٰ نے ہمیں ہلاک کر دینے کے لئے نہیں پیدا کیا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں زندہ رہنے اور زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ہماری جماعت دوسروں کی روحانی مردنی کو دور کرنے کے لئے معرض وجود میں آئی ہے دنیا میں کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا اور دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو ہمیں بحیثیت جماعت منا سکے۔88 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی مجالس عرفان ایبٹ آباد میں قیام کے دوران حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بعض مواقع پر مجالس عرفان کا انعقادفرمایا اور ان مجالس میں احباب جماعت کی تربیت و اصلاح اور علمی ترقی کے لئے بیش بہا نکات معرفت بیان فرماتے رہے۔ان میں سے بعض ارشادات درج ذیل ہیں۔ا۔مورخہ ۳۰ جون ۱۹۷۲ء کو حضور نے خطبہ جمعہ کے بعد احباب جماعت کو شرف ملاقات بخشا اور پھر دیر تک ان سے گفتگو بھی فرماتے رہے۔دوران گفتگو حضور انور نے فرمایا کہ مخالفین کی گالیوں پر نہ ہار مانے کا سوال ہے اور نہ متاثر ہونے کا کوئی اندیشہ، وہ اپنا کام کئے جاتے ہیں اور ہم اپنا کام یعنی تبلیغ اسلام کئے جارہے ہیں۔ایک دوست سے دھان اور کئی میں سے کسی ایک کی کاشت کو ترجیح دینے کے متعلق فرمایا ہر کام کو سوچ کر کرنا چاہیے قرآن کریم اس نصیحت سے بھرا پڑا ہے کہ ہر کام میں عقل سے کام لو۔اگر اس علاقے میں دھان کی بجائے مکئی کی پیدا وار زیادہ ہے تو اسی کی کاشت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔پاک بھارت مذاکرات کے ذکر پر فرمایا کہ ہم تو اس صبح سے دیکھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور خدائے رحمن و رحیم پر ایمان لاتے ، احسان اور مروت کے خوگر اور اخوت کی لڑی میں منسلک ہیں۔ہمارا واسطہ اُن لوگوں سے آ پڑا ہے جو اپنے آباء واجداد سے پتھروں کی پرستش کرتے چلے آ رہے ہیں جس سے ان کے دل بھی پتھر بن چکے ہیں۔اب دیکھتے ہیں اسلام کے ٹھنڈے پانی کا تیز