تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 91 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 91

تاریخ احمدیت۔جلد 28 91 سال 1972ء کے لئے ملنا چاہیے۔جسمانی غذا کی طرح روحانی اور اخلاقی غذا کو ہضم کرنے کے لئے بھی کچھ وقت انسان کی روح اور اس کے دل و دماغ کو ملنا چاہیے۔پس جو کچھ آپ نے یہاں پڑھا یا سیکھا۔اب آپ اس پر غور و تدبر کریں اور اسے اپنے دل و دماغ میں جگہ دیں تا کہ وہ ہضم ہو کر حقیقی معنوں میں آپ کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور انہیں اجاگر کرنے کا موجب ہو سکے۔حضور نے فرمایا آپ میں سے ہر ایک کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ آپ اپنے عمل سے دنیا کو یہ بتا دیں کہ حقیقی احمدی کیسے ہوتے ہیں۔دنیا کو یہ نظر آ جانا چاہیے کہ احمدی وہ ہوتا ہے جو اپنے خدا سے اور اس کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سے اور خدا کی تمام مخلوق سے حقیقی محبت اور پیار رکھتا ہے۔حضور نے فرمایا قرآن کریم ہر لحاظ سے ایک جامع اور مکمل کتاب ہے اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی میں اس پر عمل کر کے ہمیں دکھلا دیا۔اسی کا نام اسوہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ حضور دن رات خدا کی مخلوق کی بہتری اور ہمدردی کے لئے کوشاں رہتے تھے۔دوست دشمن سب کے لئے بے پایاں شفقت محبت اور ہمدردی رکھتے تھے۔حضور خیر محض تھے جس میں سے شفقت و ہمدردی کی ہزاروں شعاعیں نکل نکل کر دنیا کو منور کرتی تھیں۔آپ تڑپ تڑپ کر جو دعائیں کرتے تھے ان کا دائرہ اس وقت کی پوری معلوم دنیا پر محیط تھا۔یہ ہے وہ اسوہ حسنہ جس پر ہم نے عمل کرنا ہے کسی کے خلاف نفرت کی گرمی نہ ہو۔ہر ایک کے لئے حتی کہ مخالفین کے لئے بھی دل شفقت و ہمدردی سے بھرے ہوئے ہوں۔دل میں بس ایک ہی گرمی ہو اور وہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کی گرمی ہے۔ہماری روح کے آئینہ میں سوائے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے اور کوئی تصویر آنی ہی نہیں چاہیے۔76 ربوہ میں یوم خلافت کی تقریب مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۷۲ء کو مسجد مبارک ربوہ میں صبح سات بجے یوم خلافت کی مبارک تقریب منعقد ہوئی۔یہ مبارک تقریب مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔اس تقریب میں اہل ربوہ کثرت کیساتھ شامل ہوئے۔مستورات کے لئے الگ پردہ کا بھی انتظام تھا۔اس مبارک تقریب میں مکرم ابوالعطاء صاحب ، مکرم سید عبدالہادی صاحب، مکرم شیخ مبارک احمد صاحب، مکرم زکریا خان صاحب اور مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب نے تقاریر کیں۔بزرگان سلسلہ