تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 60
تاریخ احمدیت۔جلد 27 60 سال 1971ء ان دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور آپ کی حالت تیزی سے بہتر ہونے لگی۔جلد ہی آپ کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کے آبزرویشن روم سے وی آئی پی روم میں منتقل کر دیا گیا اور اکتو بر ۱۹۷۱ء کے پہلے ہفتہ میں آپ ہسپتال سے فارغ ہو کر گھر تشریف لے گئے۔64 جب تک صاحبزادہ صاحب بستر علالت پر رہے آپ کی خیریت دریافت کرنے کے لئے ملک کے اعلیٰ سول اور فوجی حکام اور دیگر سر بر آوردہ حضرات کے برقی پیغامات اور ٹیلیفون کا تانتا بندھا رہا۔اسی طرح ملک کی متعدد اعلیٰ سول اور فوجی شخصیات آپ کی عیادت کے لئے تشریف لائیں۔علاوہ ازیں چین، ماریشس، نائیجیریا اور پرتگال کے سفیر آپ کی مزاج پرسی کے لئے ہسپتال میں تشریف لائے۔اس حادثہ کی اطلاع ملتے ہی یحیی خان صدر پاکستان نے آپ کا حال دریافت کیا اور اس غرض کے لئے اپنے پرنسپل سٹاف آفیسر لیفٹینٹ جنرل ایس جی ایم ایم پیرزادہ کو بغرض عیادت بھجوایا۔جن حضرات کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیغامات پہنچے ان میں سے قابل ذکر نام یہ ہیں۔سابق فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ( یہ پیغام ان کے داماد میاں گل جہاں زیب لے کر آئے )، گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل کے ایم مظہر خان، پاک بحریہ کے کمانڈر انچیف وائس ایڈمرل مظفر حسن صاحب، برطانوی ہائی کمشنر مسٹر جان لارنس ہمفرے، ماریشس کے ہائی کمشنر مسٹرامین ،مسٹر گوہر ایوب صاحب سابق صدر پاکستان ایوب خان کے صاحبزادے اور پاکستان اسمبلی کے موجودہ سپیکر)، چوہدری فضل الہی صاحب ( آپ بعد ازاں صدر پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے ) ، یوگوسلاویہ میں پاکستانی سفیر حکیم محمد احسن صاحب، عالمی بینک کے نائب صدر مسٹر محمد شعیب، ہائی کمشنر پاکستان لنڈن مسٹرسلیمان علی، امریکہ کے پاکستانی سفیر مسٹر آغا بلالی مقیم واشنگٹن ، پاک فضائیہ کے کمانڈرانچیف ایئر مارشل عبد الرحیم، کونسل مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ مشہور مسلم لیگی لیڈر سردار شوکت حیات خان ، سابق وزیر اعلی متحدہ پنجاب سردار خضر حیات خان، ڈاکٹر عبدالمطلب مالک گورنر مشرقی پاکستان، امریکہ، مغربی جرمنی، اٹلی، ترکی اور نیپال کے سفارتی نمائندے، عالمی بینک کے پاکستان امدادی کنسورشیم کے صدر مسٹر آئی پی ایم کارگل ، ذوالفقار علی بھٹو چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی (انہوں نے تار دیا کہ اسلام آباد میں آپ پر ہونے والے بزدلانہ حملہ کی اطلاع پر مجھے بہت دکھ پہنچا ہے ، پاکستان مسلم لیگ کے صدر خان عبدالقیوم خاں صاحب ( آپ نے اپنے پیغام میں آپ پر ہونے والے حملہ کی مذمت کی )۔