تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page iii
پیش لفظ از جماعت احمد یہ عالمگیر کی تاریخ سچائی پر مبنی حقائق و واقعات کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر رہی ہے۔یہ ہماری اس شاندار مساعی کو بیان کرتی ہے جس پر ہمارے عظیم الشان مستقبل کی بنیادیں استوار کی جارہی ہیں۔اس لئے ہر احمدی کو ان ایمان افروز حالات و واقعات کو اپنے زیر مطالعہ رکھنا چاہئے اور ان تاریخی حقائق کو زیر نظر رکھ کر اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بنانے کے لئے ہمہ تن مصروف کا ررہنا چاہئے۔یہ تاریخ احمدیت کی ستائیسویں جلد ہے جو اے ۱۹ ء کے حالات پر مبنی ہے۔اس جلد میں آپ بالخصوص یہ ملاحظہ فرمائیں گے کہ افریقہ کے بظاہر تاریک لیکن انسانی قدروں سے آشنا معاشرہ میں قافله احمدیت کس برق رفتاری سے دلوں کی تسخیر کرتا جارہا ہے۔کس طرح 70ء کی دہائی میں امام حمام حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ایک اشارے پر احمدی ڈاکٹر ز اور اساتذہ اپنے ملکوں اور شہروں کو چھوڑ کر افریقہ کے جنگلوں، میدانوں اور ریگ زاروں میں انسانیت کی خدمت پر کمر بستہ ہونے کے لئے دیوانہ وار افریقہ کا رخ کرتے ہیں اور اس طرح حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی جاری کردہ با برکت سکیم نصرت جہاں آگے بڑھو کے شیریں ثمرات سے ایک عالم کو بہرہ مند کرنے لگتے ہیں اور اب اس تحریک کے شیریں ثمرات خلافت خامسہ میں بھی براعظم افریقہ میں چارسو نظر آرہے ہیں۔الحمد للہ دینی تعلیمات کی روشنی میں جماعت احمدیہ کا ظاہر و باہر عقیدہ ہے کہ ہر احمدی اپنے وطن کا وفادار ہے اور اس کا فرض ہے کہ جب بھی اس کے وطن پر مشکل وقت آ پڑے تو وہ اپنی جان ومال کے ساتھ ملک کی حفاظت وسالمیت کے لئے میدان میں نکل آئے۔چنانچہ جب ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں فسادات شروع ہوئے اور بعد ازاں پاک بھارت جنگ بھی چھڑ گئی تو ہر احمدی نے انہی تعلیمات کی روشنی میں اپنی بساط سے بڑھ کر ملک و قوم کی خدمت کی۔پھر جب پاکستان کا ایک حصہ الگ ہو گیا تو حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اس موقع پر جس طرح قوم کی ڈھارس بندھائی اور رہنمائی فرمائی نیز ان تمام علل و اسباب کی بھر پور نشاندہی فرمائی جن کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی۔یہ تمام حالات اس جلد میں مذکور ہیں۔