تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 287
تاریخ احمدیت۔جلد 27 287 سال 1971ء دوسرے ارکان کے ساتھ شام پانچ بجے ملاقات کی۔ان کی خدمت میں جماعت کی طرف سے ایڈریس پیش کیا جس میں انہیں خوش آمدید کہنے کے علاوہ اسلام کی تعلیم سے آگاہ کیا اور آخر میں قرآن کریم انگریزی اور دیگر اسلامی کتابیں بطور تحفہ پیش کی گئیں۔شاہ ٹونگا نے کھڑے ہو کر قرآن کریم وصول کرنے کے بعد ایڈریس کے جواب میں شکریہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔”میرا ملک صد فیصد عیسائی ہے میں بھی پیدائشی عیسائی ہوں میں نے اس سے پہلے کبھی قرآن کریم دیکھا تک نہیں تھا نہ اسلام سے مجھے تعارف تھا۔آپ نے یہ تقریب پیدا کر کے مجھے اس مذہب سے متعارف کرایا ہے جو میری والدہ کی قوم کا صدیوں سے مذہب چلا آتا ہے۔میری والدہ انڈو نیشین نسل سے ہیں۔آپ کی طرف سے پیش کردہ قرآن کریم اور کتب کا ضرور مطالعہ کروں گا۔آپ نے ایک عظیم روحانی خزانہ مجھے عطا کیا ہے آپ لوگ بڑے شکریہ کے مستحق ہیں“۔دوسرے روز لوکل اخباروں میں اس تقریب کی تصاویر کے علاوہ تمام روداد بھی شائع ہوئی اور ریڈیو پر بھی یہ خبر نشر کی گئی۔اس کے ایک ہفتہ بعد احمد یہ وفد نے شاہ ٹونگا کے چچا سر ایڈورڈ کا کو باؤ کا دوباره شکر یہ ادا کر کے انہیں بھی قرآن کریم پیش کیا۔108 اس ملاقات کی رپورٹ سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں پہنچی تو حضور نے اظہار خوشنودی فرمایا ، دعا دی اور یہ ہدایت بھی فرمائی کہ بادشاہ سے لے کر ادنیٰ سے ادنی انسان تک دن رات اسلام کا پیغام پہنچا ئیں۔حضور کے اس ارشاد کے بعد مولوی محمد صدیق صاحب نے ملک میں ایک خاص تبلیغی مہم جاری کی اور مارکیٹ میں تین چار احمدی سٹالوں کے علاوہ ٹیکسیوں اور بسوں میں بھی جماعتی لٹریچر بغرض تقسیم رکھوا دیا حتی کہ مسجد اور مشن ہاوس کے فلش پٹ اور کمپاؤنڈ کی صفائی کرنے والے مزدوروں کی بھی چائے سے تواضع کر کے انہیں پیغام حق پہنچایا گیا۔یہاں تک کہ بعد میں وہ غریب بجمین باشندے نجبین زبان میں شائع شدہ لٹریچر خود طلب کرنے لگے۔اس سال خدا تعالیٰ کے فضل سے پاکستانی مبلغین اور مخلصین جماعت کی کوششوں سے ۱۳۰ را حباب داخل احمدیت ہوئے جن میں سے ۱۳ / ا حباب عیسائیت اور ہندومت کو چھوڑ کر اسلام کے نور سے منور ہوئے۔104 سال ۱۹۷۱ء میں جماعت احمد یہ نبی کو اللہ تعالیٰ نے ایک پرنٹنگ مشین اور اس کے دیگر لوازمات