تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 286
تاریخ احمدیت۔جلد 27 286 سال 1971ء علیہ السلام کی طرف سے ہندوؤں کے نام اسلام کا پیغام لیکچر سیالکوٹ“ کا ہندی میں ترجمہ کر کے ہزاروں کی تعداد میں ہندوؤں میں تقسیم کیا گیا۔سووا ، با لٹو کا کے کتب خانوں اور بک شاپوں میں بھی ہم نے اپنا اسلامی لٹریچر انگریزی اور مجمین زبان میں رکھا ہوا ہے جو کہ فروخت ہوتا رہتا ہے۔نجی میں تمام دنیا سے ٹورسٹ آتے ہیں اور ہر ہفتہ دو چار بحری جہاز سیاحوں سے بھرے یہاں آتے رہتے ہیں۔بعض دفعہ فوجی جہاز بھی آتے ہیں ایسے لوگوں کو پیغام حق پہنچانے کے لئے اپنا انگریزی اور فرنچ لٹریچر بعض جہازوں کے اندر جا کر اور بعض دفعہ باہر کھڑے ہو کر بعد گفتگو تقسیم کیا جاتا رہا ہے۔محترم شیخ عبدالواحد صاحب سابق انچارج نجی مشن کا چھپوایا ہوا لوکل نجبین زبان میں اسلامی لٹریچر کافی تعداد میں یہاں موجود ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی بھی نجین زبان میں مترجم ہے ایسے پمفلٹ اور کتب لے کر بعض دفعہ وفود کی صورت میں لوکل مجمین آبادی اور ان کے دیہات میں دورے کئے گئے اور ان میں لٹریچر تقسیم کرنے کے علاوہ گھنٹوں ان سے زبانی گفتگو اور تبلیغ کی جاتی رہی ہے۔اس کے علاوہ نبی کے یوم آزادی کے موقع پر نجی گورنمنٹ اور پولیٹیکل پارٹیوں کے سرکردہ لیڈروں کو مبارک باد کے ساتھ قرآن کریم اور اسلام پر مختلف کتب تحفہ پیش کر کے انہیں تبلیغ کی گئی۔جولائی ۱۹۷۱ء میں ساؤتھ پیسیفک کے سب جزائر کے میتھوڈسٹ لوکل اور سفید پادریوں کی ایک اہم کا نفرنس سووا میں ہوئی۔اس موقع پر خاکسار ( مراد مولوی محمد صدیق صاحب ) اور مکرم مولوی محمد لال ٹوپی صاحب نے لوکل پادریوں کی رہائش گاہ پر جا کر انہیں اسلام کے متعلق زبانی ضروری معلومات بہم پہنچا ئیں اور گفتگو شروع ہونے پر پچاس ساٹھ پادریوں کی موجودگی میں اسلام اور عیسائیت کی تعلیم کا موازنہ کر کے ان پر اسلامی تعلیم کی برتری ثابت کی گئی۔ان میں سے اکثر کو اسلام کے نام کے سوا ہمارے دین کے متعلق کچھ علم نہ تھا۔چنانچہ انہی کی درخواست پر ان سب میں محبین اور انگریزی زبان میں اسلامی لٹریچر بھی تقسیم کیا اور اپنے مرکز کا پتہ بھی اکثر کو دیا گیا۔102 نومبر ۱۹۷۱ء میں جزائر ٹونگا کے بادشاہ جونجی میں قائم شدہ جنوبی بحر اوقیانوس کے جزائر کی واحد یونیورسٹی کے اعزازی چانسلر تھے یونیورسٹی کی تقریب تقسیم اسناد میں تشریف لائے ان کے چچا سر ایڈورڈ کا کو باؤ(Edward Cakobau) نائب وزیر اعظم نجی ، جماعت احمدیہ کے ایک مخلص اور مخیر دوست محمد شمس الدین صاحب کے سکول فیلو اور کرکٹ فیلو تھے، جن کے ذریعہ شاہ ٹونگانے جماعت احمد یہ نبی سے ملاقات منظور کی جس پر اسی روز مولا نا محمد صدیق صاحب امرتسری نے وفد کے