تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 282 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 282

تاریخ احمدیت۔جلد 27 282 سال 1971ء کہ جماعت احمد یہ اس ملک کی بہت خدمت کر رہی ہے۔قرآن مجید کا تحفہ پیش کرنے کی خبر اخبارات میں وسیع پیمانے پر شائع ہوئی۔نیز ریڈیو اور ٹیلی وژن نے بھی اس کو خوب پذیرائی دی۔97 فنجی اس سال منجی مشن نے مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کی قیادت میں اشاعت اسلام کا کام نہایت کامیابی سے جاری رکھا اور ترقی کی۔جنوری ۱۹۷۱ء میں مولوی محمد صدیق صاحب نے لمباسہ شہر کے ایک مخلص احمدی مولوی محمد لال ٹوپی صاحب سابق صدر جماعت احمد یہ لمباسہ کے ہمراہ نجی کے مشہور جزیرہ تاویونی (Taveuni) کا دس روز تک کامیاب تبلیغی دورہ کیا اور ہر طبقہ اور ہر مذہب کے لوگوں تک پیغام حق پہنچایا اور بہت سالٹر پچر تقسیم اور فروخت کیا جو زیادہ تر کا ویتی زبان میں تھا۔اسی دوران آپ کو سمندر کے کنارے ایک جنگل میں ایک مسلمان بھائی اور غریب کسان محمد حسین کے ہاں پانچ راتیں گزارنے کا موقع ملا۔اس مخلص دوست نے نہ صرف آپ کی خدمت اور آرام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی بلکہ آپ کے تبلیغی پروگراموں کو کامیاب بنانے میں دن رات ایک کر دیا۔کئی تبلیغی اجتماعات ہوئے اور ایک مرتبہ دور دور سے ہندو اور سکھ کسانوں کو بلا کر ایک کامیاب جلسہ بھی کرایا۔آپ کی واپسی سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے اکثر اہل خانہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔مبلغ احمدیت کو جنگل کے اس دور افتادہ ماحول میں اس کے مکینوں سے شناسائی کیسے ہوئی؟ یہ بھی خدائے عز وجل کی قدرت کا ایک کرشمہ تھا جس کی تفصیل مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کے الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے:۔اس جزیرہ پر ہمارے اترنے سے کئی سال پہلے کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے اس غریب میزبان کا ایک آٹھ نو سالہ لڑکا کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو گیا۔جب لوکل علاج کارگر نہ ہوا تو وہ اسے بذریعہ سمندری کشتی علاج کے لئے نجی کے دارالحکومت سووا (Suva) لے آئے۔شووا میں ان کی کسی سے جان پہچان نہ تھی بندرگاہ سے باہر نکل کر بازار میں اچانک بقول ان کے ایک پگڑی اور اچکن زیب تن کئے ہوئے فرشتہ رو مسلمان پر ان کی نظر پڑ گئی۔یہ تھے نجی کے احمد یہ مشن کے پہلے مبلغ انچارج مولانا شیخ عبدالواحد صاحب فاضل۔چنانچہ انہوں نے مولانا صاحب سے اپنے بچے کی شدید بیماری اور اپنی کسمپرسی کا ذکر کر کے بصد منت امداد اور راہنمائی کی درخواست کی۔مولانا صاحب