تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 280 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 280

تاریخ احمدیت۔جلد 27 280 سال 1971ء منتخب کیا گیا۔اب اپنی قوم کے ہر دلعزیز اور محبوب سر براہ ہیں۔تقریب کے دوران شاہی روایات کے مطابق ترجمان کے ذریعہ گفتگو کرتا رہا۔لیکن بعد میں مروجہ دستور کے برعکس ہم براہ راست گفتگو کرتے رہے۔زائرین کے رجسٹر پر دستخط کئے اور موقع کی تصاویر لی گئیں۔اس تقریب کی خبر یہاں کے ملکی اخبارات خصوصا دی پائیر (The Pioneer) کے پہلے صفحہ پر نمایاں طور پر مع تصویر شائع ہوئی۔الحمد للہ۔93 اس سال مشن کی تاریخ کا ایک ایسا منفرد واقعہ رونما ہوا جو ملکی قانون میں تبدیلی کا موجب بنا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ غانا کے مروجہ دستور کی رو سے میت کے ترکہ کا وارث بھتیجا قرار پاتا تھا اور میت کے قریبی ورثاء مثلاً والدین، بیوی، اولا دمحروم رہتے تھے۔اس ملکی دستور کے باعث میت کے قریبی رشتہ داروں سے جو نا انصافی برتی جاتی تھی وہ ظاہر و باہر ہے۔جماعت احمدیہ کے افراد حتی الوسع وصیت پر عمل پیرا ہوتے ہیں تاکہ ان کے بعد ان کی اولا دغیروں کی محتاج اور دست نگر نہ بنے۔وصیت کا نافذ بالعموم امیر جماعتہائے احمد یہ غانا کو مقرر کیا جاتا ہے بوقت نفاذ میت کے غیر مسلم ورثاء عموماً جھگڑا کھڑا کر دیتے تھے کہ جو جائیداد بطور ترکہ میت نے چھوڑی ہے وہ سب کی مشترکہ محنت اور سرمایہ سے بنی ہے لہذا ترکہ میں ان کا بھی حق بنتا ہے۔عدالت کے ذریعہ ایسے معاملات طے ہوتے تھے۔ایک ایسا مقدمہ غانا کے ایک احمدی دوست الحاج داؤ د مرحوم کے ترکہ کا بھی تھا جو ۱۹۶۹ء سے عدالت کے زیر سماعت رہا ہے۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے عدالت کو توجہ دلائی کہ جلد کوئی نہ کوئی فیصلہ ہونا چاہیے۔چنانچہ عدالت کی طرف سے تاریخ مقرر ہوئی جو آپ کی دوسری مصروفیات کے پیش نظر چنداں موزوں نہ تھی۔آپ نے اپنے خیالات تحریری طور پر بھجوا دیئے۔حاکم عدالت نے آپ کے خط ( جو تین فل سکیپ صفحات پر مشتمل تھا) کی نقل تمام وکلاء میں تقسیم کرا دی اور آپ کو اطلاع بھجوائی کہ اسلامی نظام وراثت کے موضوع پر عدالت سے خطاب کریں چنانچہ مقررہ تاریخ کو مولوی صاحب نے پندرہ وکلاء اور جج صاحبان سے خطاب کیا۔اس کے بعد سوالات و جوابات کا سلسلہ جاری رہا جو دلچسپ رہا۔اس کے بعد صدر صاحب نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اسلامی نظام وراثت سے متعلق معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں۔چنانچہ فیصلہ وصیت کے مندرجات کے مطابق ہوا۔اس موقع پر مولانا صاحب نے قرآن مجید مع تفسیری نوٹ کے تین نسخے عدالت کو پیش کئے۔94