تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 271
تاریخ احمدیت۔جلد 27 271 سال 1971ء عطاء الرحیم صاحب حامد، کینما (Kenema) اور باڈو (Gbado) تشریف لے گئے تھے ان کا بیان ہے۔ایک شخص فوڈے تا ڈز کو جب میں نے تبلیغ کی تو بعد میں کہنے لگا مجھے احمدیت کے قبول کرنے میں انقباض ہے۔جس پر میں نے وجہ دریافت کی۔تو اس نے کہا کہ خواب میں مجھے مہدی علیہ السلام کو دو مرتبہ دکھایا گیا ہے اب مجھے معلوم نہیں کہ تم کس مہدی علیہ السلام کے متعلق بتا رہے ہو اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ مجھے مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر تم نے نماز نہ پڑھی تو میں تمہیں مار دوں گا۔عطاء الرحیم صاحب نے اس سے پوچھا کہ تمہیں مہدی علیہ السلام کی شبیہ یاد ہے اور کہا کہ اگر تمہیں مہدی علیہ السلام کی تصویر دکھائی جائے تو تم پہچان لو گے؟ اس نے کہا کہ دکھاؤ۔چنانچہ عطاء الرحیم صاحب نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شبیہ مبارک دکھائی تو اس نے فوراً کہا کہ واقعی یہی وہ شکل ہے جو مجھے خواب میں دکھائی گئی تھی۔بعد میں کہنے لگے کہ اب میں احمدیت کے بارہ میں ہر طرح سے مطمئن ہوں اور اس کی سچائی واضح ہو چکی ہے۔جور وسکول کے تین طلباء ایام وقف کے دوران کورے بونڈو (Koribondo) اور لیوما (Leuoma) میں بھجوائے گئے جنہوں نے پورے جوش اور جذ بہ تبلیغ کے ساتھ پیغام حق پہنچایا جس کے نتیجہ میں چودہ نفوس حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔وقف عارضی کی بابرکت تحریک کے طفیل مجموعی طور پر پچپن افراد کو قبول اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔84 احمدیہ مسلم سیکنڈری سکول بو میں صدر جمہوریہ سیرالیون کی آمد صدر جمہور یہ سیرالیون ڈاکٹر سیا کا پی سٹیونز (Siaka P۔Stevens) دسمبر ۱۹۷۱ء کو بو کے سرکاری دورے کے دوران احمدیہ مسلم سیکنڈری سکول بھی تشریف لائے۔آپ کی آمد کے پیش نظر سکول کی سڑک کے دونوں اطراف میں جھنڈیاں اور پر چم لگائے گئے اور راستہ میں خوبصورت محراب اور دروازے نصب کئے گئے۔صدر جمہوریہ نے اس موقع پر طلباء سے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں انہوں نے جماعت احمدیہ کی ان تعلیمی اور طبی خدمات کو فراخ دلی سے سراہا جو جماعت کا مشن اس ملک میں سر انجام دے رہا ہے۔صدر سیرالیون نے بالخصوص پاکستانی اساتذہ کا بھی شکریہ ادا کیا جو اپنے وطن سے ہزاروں میل دور فرزندان افریقہ کی تربیت و تعلیم اور تہذیب اخلاق کا خوشگوار فریضہ ادا کر رہے ہیں۔روانگی سے قبل صدر نے سکول کی لاگ بک پر دستخط ثبت کئے اور وعدہ کیا کہ اس مرتبہ مصروفیت