تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 237 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 237

تاریخ احمدیت۔جلد 27 237 سال 1971ء ہیں ان سے اس علاقہ کے بہت سے لوگ واقف ہیں۔آپ نے جو یہاں اردو کا نفرنسیں کروائیں اور جواد بی مذاکرے کروائے یا خاص ایام منعقد کئے ان کی شہرت دیوار ربوہ پار کر کے بہت دور دور تک پہنچی ہے اور ہمارے وطن کے بیشتر اہل نظر اس بزم کے نام اور کام سے واقف ہیں۔حضرات ! ماضی میں آپ کی انجمن نے جو عمدہ کام کئے ان کا سہرا ز یادہ تر ڈاکٹر پرویز پروازی کے سر ہے انہوں نے اس سلسلہ میں بے حد کام کیا اور آپ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ چوہدری محمد علی صاحب جیسے صاحب نظر شاعر اور ادیب آپ کے پرنسپل ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ان کی سر پرستی کے باعث یہ انجمن اور بھی ترقی کرے گی اور یہ سال اس کی زندگی میں بہت نیک سال ثابت ہوگا“۔54 شادی کی ایک تاریخی تقریب برمنگھم کے ایک نوجوان انگریز Mr۔Neville Ward ایک سکول میں بطور استاد کام کرتے رہے۔مطیع اللہ درد صاحب بھی بطور استاد اسی سکول میں مدرس تھے۔مطیع اللہ درد صاحب سے ان کا مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا اور آنا جانا شروع ہوا Mr۔Ward صاحب کی سالگرہ کے موقع پر مطیع اللہ صاحب نے آپ کو حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی کتب کا تحفہ لا کر دیا جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی پر سیر حاصل بحث کی گئی تھی۔اس وقت تک Mr۔Ward صاحب کی منگنی آپ ہی کی کزن سے ہو چکی تھی۔آپ کی منگیتر بھی ان کتب سے کافی متاثر ہوئیں۔ان موضوعات پر غور کرنے کے بعد آپ دونوں نے مسجد فضل لندن جانے کا ارادہ کیا جہاں آپ کی ملاقات مکرم عطاء المجیب راشد صاحب سے ہوئی۔مکرم امام صاحب انتہائی تپاک اور گرم جوشی کے ساتھ ملے۔مشن ہاؤس کا دورہ کرنے کے بعد دل کو انتہائی سکون محسوس ہوا۔واپس آکر اس نیک بخت جوڑے نے خدا تعالیٰ کے حضور تسلی اور اطمینان کے حصول کے لئے دعا کی۔جولائی ۱۹۷۱ ء کو اس جوڑے نے بیعت فارم پر کر کے ارسال کر دیا۔بیعت کے بعد حضرت اقدس خلیفتہ اسیح الثالث کی خدمت میں ان کے نام رکھنے کی درخواست کی گئی۔حضور نے علی الترتیب ناصر وسیم اور ولیہ قدسیہ تجویز فرمائے۔مورخه ۲۳ اکتو بر ۱۹۷۱ کو بیت فضل لندن میں محترم امام صاحب نے آپ دونوں کے نکاح کا اعلان فرمایا۔اور اسی روز شادی کی تقریب عمل میں آئی۔اگلے روز وسیع پیمانے پر دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں احباب جماعت کثرت کے ساتھ شامل ہوئے۔