تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 13
تاریخ احمدیت۔جلد 27 13 سال 1971ء صاحب نے اس کا علاج کیا اور پاؤں کاٹے بغیر وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے تندرست ہو گیا۔18 ۶ - احمد یہ ہسپتال سویڈ رو (غانا) اس ہسپتال کا باقاعدہ افتتاح ۱۸ نومبر ۱۹۷۱ء کو ایک پرشکوہ اور پروقار تقریب میں ہائی کمشنر پاکستان مقیم غانا ہز ایکسی لینسی ایس اے معید صاحب نے فرمایا۔یہ نیا ہسپتال غانا کے سنٹرل ریجن میں اگونا سویڈ رو کے مقام پر کھولا گیا۔افتتاحی تقریب میں صدارت کے فرائض غانا کے نائب وزیر زراعت آنریبل محاما ثانی صاحب نے ادا فرمائے جو خود بحمد اللہ تعالیٰ مخلص احمدی تھے۔اس میں پانچ ہزار مہمانوں نے شرکت کی۔علاوہ ازیں علاقہ کے پیرا ماؤنٹ چیفس ، اعلیٰ سرکاری حکام اور ملک کے بعض نامور اشخاص بھی تشریف لائے تھے۔جس ہال میں تقریب منعقد ہوئی اسے رنگ برنگ کی جھنڈیوں اور آرائش کے دیگر سامانوں سے سجایا گیا تھا۔اس موقع پر شہر میں خوشی کی لہر دوڑی ہوئی تھی اور اہل شہر ہسپتال کے قیام پر از حد مسرور نظر آتے تھے۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو مولوی عبدالشکور صاحب مبلغ غانا نے کی۔بعد ازاں مولا نا بشارت احمد بشیر صاحب نے خطبہ استقبالیہ پڑھا۔آپ نے ہز ایکسی لینسی ہائی کمشنر پاکستان اور دیگر مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے علاوہ جماعت احمدیہ کی ان تعلیمی ، سماجی اور طبی خدمات کا ذکر کیا جو وہ ملک بھر میں نہایت بے لوث طریق پر انجام دے رہی ہے۔آپ نے فرما یا ملک میں ہسپتالوں کا قیام جماعت احمدیہ کی رفاہی سرگرمیوں کے پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے۔جماعت نے ملک میں مزید ہسپتالوں اور سکولوں کے قیام کے ذریعہ اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت اور اس کے عظیم ورثہ کو بحال کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ہسپتال کے آفیسر انچارج ڈاکٹر آفتاب احمد صاحب نے اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ہسپتال کے قیام کے سلسلہ میں کی جانے والی مساعی کا اختصار کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد بتایا کہ پانچ ماہ کی قلیل مدت میں آٹھ ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا اور ایک سو سے زائد بڑے آپریشن کامیابی کے ساتھ کئے گئے۔آپ نے مزید بتایا کہ اگرچہ میں برسر روزگار اپنے طور پر مصروف کار تھا لیکن جب میرے محبوب امام آقا اور مقدس امام حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے احمدی ڈاکٹروں کو اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے پکارا تو میں نے فوراً اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تین سال کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں تاکہ میں حضور کی زیر ہدایت اپنے افریقی بھائیوں کی