تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 194
تاریخ احمدیت۔جلد 27 194 سال 1971ء رحمت بی بی صاحبہ اہلیہ حضرت ماسٹر محمد پریل صاحب وفات : ۲۶ فروری ۱۹۷۱ء آپ حضرت ماسٹر محمد پریل صاحب کی اہلیہ اور مولوی بشارت احمد صاحب بشیر مبلغ نانا کی والدہ ماجدہ تھیں۔بہت مخلص اور نیک خاتون تھیں تبلیغ کا شوق رکھنے والی نیز قرآن مجید کی تلاوت با قاعدگی سے کرنے والی تھیں۔بہت مہمان نواز اور ملنسار تھیں۔آپ کی بہو محتر مہ رشیدہ باسمہ صاحبہ اہلیہ مولوی بشارت احمد صاحب بشیر تحریر فرماتی ہیں کہ میرے خاوند جب غانا کے لئے روانہ ہونے لگے تو کسی پریشانی یا گھبراہٹ کا اظہار نہ کیا بس اتنا کہا جاؤ خدا حافظ۔اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہو اور کامیاب واپس آؤ۔آپ نے ۲۶ فروری ۱۹۷۱ء کو کنڈیارو ضلع نواب شاہ میں وفات پائی۔79 ڈاکٹر عبد الرحمن صاحب آف کا مٹی حال کراچی وفات : ۳۰/۲۹ مارچ ۱۹۷۱ء پہلا نام منگل سنگھ تھا۔خلافتِ اولیٰ کے عہد مبارک میں ۲۸ مئی ۱۹۱۱ ء کو قبول اسلام کیا۔والد نے مقدمہ کھڑا کر دیا۔مگر سپر نٹنڈنٹ پولیس لاہور نے یہ کہہ کر اسے خارج کر دیا کہ لڑکا بالغ ہے وہ برضاء ورغبت مسلمان ہوا ہے۔باپ نے نمبر داری اور ز مین کا لالچ دیا مگر آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے سامنے اپنے حقوق نمبر داری اور زمین سے دستبرداری کا بیان دے دیا۔حضور نے فرمایا تھا کہ میں خدا سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو اس نمبر داری اور جائیداد کے عوض اس سے اعلیٰ نمبر داریاں اور بہت بڑی جائیداد عطا فرمائے۔آپ نے قادیان واپس آ کر جب حضرت صاحب کی خدمت میں یہ رپورٹ پیش کی کہ حضور کے حکم کی تعمیل کر دی ہے تو آپ بہت خوش ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ عبدالرحمن! یہ مت سمجھو کہ اب دنیا میں تمہارا کوئی باپ نہیں ہے۔نہیں۔نورالدین خود تمہارا باپ ہے۔اس کے بعد آپ نے قادیان میں حضرت خلیفہ اول کے زیر سایہ میٹرک کا امتحان پاس کیا دوران تعلیم حضور کی سفارش پر جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ء کے موقعہ پر حضرت حافظ مولوی محمد فیض الدین صاحب سیالکوٹی کی صاحبزادی غلام فاطمہ بیگم سے آپ کا نکاح ہو گیا اور آپ کے تمام اخراجات کی ذمہ داری بڑی حد تک حضرت مولوی محمد فیض الدین صاحب نے اٹھالی۔میٹرک کے بعد انہوں نے