تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 10
تاریخ احمدیت۔جلد 27 10 سال 1971ء نے چار ہزار افراد کی موجودگی میں ایک شاندار تقریب میں کیا۔اس تقریب میں مختلف علاقہ جات کے ۶ پیراماؤنٹ چیفس ، ۲۵ چیفڈم سپیکرز اور ۴۰ سیکشن چیفس بھی شامل تھے۔حاضرین سے خطاب کے دوران وزیر صحت نے کہا :۔ایک ماہر تعلیم اور وزیر صحت ہونے کی حیثیت سے میں اس بات پر خوشی اور مسرت کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جماعت احمدیہ قومی سطح پر بے لوث رنگ میں ہمارے ملک کی دینی تعلیمی اور طبی لحاظ سے نہایت شاندار خدمات سرانجام دے رہی ہے۔روح کی بالیدگی اور انسانی صحت ہی ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو صحیح رنگ میں خدا شناس بنا سکتی ہیں اور جماعت احمد یہ اپنے مقدس راہنما کی ہدایت کے تحت خدا کے فضل سے پورے طور پر اس میں کوشاں ہے۔۔۔میری وزارت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کی ان کوششوں کے سلسلہ میں احمدیہ مشن کو ہر ممکن امداد دی جائے گی۔13 تقریب کی صدارت کے فرائض مشرقی صوبہ کے ریذیڈنٹ منسٹر آنریبل ایف ایس انتھونی صاحب نے انجام دیئے اور دعا مولانا محمد صدیق صاحب مبلغ انچارج نے کروائی۔ڈاکٹر امتیاز احمد صاحب چوہدری ایم بی بی ایس۔ایف آرسی ایس نے اس ہیلتھ سنٹر میں خدمات کا آغاز ۴ جون ۱۹۷۱ ء سے کر دیا تھا لیکن اس کا باضابطہ افتتاح ۳ جولائی کو عمل میں آیا۔14 ۴۔احمد یہ ہسپتال با نجل ( گیمبیا) سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے گیمبیا کے دارالحکومت بانجل کے احمد یہ ہسپتال کے لئے ڈاکٹر انوار احمد خان صاحب کا تقرر بطور میڈیکل آفیسر فرمایا۔ڈاکٹر صاحب موصوف ۶ را پریل ۱۹۷۱ء کو بانجل پہنچے اور چوہدری محمد شریف صاحب امیر و مبلغ انچارج گیمبیا کے ساتھ مل کر کلینک کھولنے کیلئے ایک دو منزلہ عمارت کرایہ پر حاصل کی۔ضروری تیاری کے بعد اگست ۱۹۷۱ء میں نصرت جہاں ٹی بی اینڈ میڈیکل سنٹر جاری ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔اس ہسپتال سے شفا پانے والے لوگوں میں صدر مملکت کی فیملی اور بعض وزراء مملکت بھی شامل رہے۔15 ۵- احمد یہ ہسپتال نیکی مان (غانا) اس ہسپتال کی افتتاحی تقریب ۲۶ ستمبر ۱۹۷۱ء کو عمل میں آئی۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔مولا نا بشارت احمد صاحب بشیر امیر و مشنری انچارج جماعتہائے احمد یہ غانا مشن نے