تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 167
تاریخ احمدیت۔جلد 27 167 سال 1971ء کرتی۔حضور ہم بچوں کے ساتھ باپ سے بھی بڑھ کر محبت کرتے۔ایک دفعہ اماں جی ( یعنی حرم حضرت خلیفہ اول نے ناراضگی سے مجھے کچھ کہا۔تو میں نے کہا اب میں ابا جی ( یعنی حضرت مولوی صاحب) کے گھر نہیں آؤں گی۔چنانچہ دو دن میں نہ گئی تیسرے روز گئی اور حضور نگے سر تکیہ لگائے ہوئے لکھ رہے تھے۔میں پاس کھڑی تھی تو آنکھ اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ اچھا اب تم ہمارے گھر نہیں آؤ گی۔یہ فقرہ بہت ہی محبت سے فرمایا۔مجھے ان کی محبت پر تعجب ہوا۔کہ اتنی عورتوں اور بچوں کے اثر دہام میں مجھ بچی کو کس محبت سے یا د فرمایا“۔(۲) ''ایک مرتبہ میں حضور کے پاس کھڑی تھی۔حضور نے مجھے چند اخباروں میں سے بدر اور نور الگ الگ کرنے کا ارشاد فرمایا۔یہ کام کرنے کے بعد حضور کے ایک رومال پر میری نظر پڑی میں نے چاہا کہ اسے صاف کر دوں۔اُسے اٹھانے کے لئے میں نے بہت سوچا کہ حضور کے علم کے بغیر اٹھایا جاسکتا۔مگر ایسا نہ ہو سکا۔تو میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے رومال پکڑا دیجئے۔حضور نے رومال پکڑا دیا اور پھر میں نے صابن سے اچھی طرح دھویا اور جلدی جلدی ہلا کر سکھایا اور سکھانے کے بعد عمدہ تہ لگا کر حضور کو دیدیا۔تب حضور نے اپنا کام چھوڑ کر ہاتھ اٹھا کر مجھ ناچیز بچی کیلئے دعا کی۔میں نے بہت خوشی کے ساتھ گھر میں اپنی والدہ صاحبہ سے یہ واقعہ سنایا۔تب وہ بھی حضرت کے گھر میں آئے اور بہت سے رومال وغیرہ صاف کئے اور حضور نے انہیں جزاک اللہ فرمایا“۔یہ بیان عاجز نے رقم کیا۔خاکسار ڈاکٹر بدرالدین احمد عفی اللہ عنہ ۳۸-۳-۱۰ یہ بیان میں نے لکھوایا۔سراج بی بی ۳۸-۳-۱۰ 42 آپ کی بیٹی محترمہ امتہ العزیز ادریس صاحبہ ربوہ تحریر فرماتی ہیں:۔” میری والدہ مکرمہ سراج بی بی صاحبہ بیگم حافظ ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب مرحوم کو سات آٹھ سال کی عمر میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی زیارت نصیب ہوئی تھی۔اپنے والدین کے ساتھ قادیان میں انہیں متعدد بار حضور کی زیارت یاد تھی۔حضور کی زیارت کے واقعات آپ کے سرمایۂ زندگی تھے اور ہمیں بچپن سے ہی اکثر یہ واقعات سناتیں اور اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر کر کے چشم پرنم ہو جاتیں کہ جس نے ایک دُور دراز کے ملک سے اٹھا کر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی زیارت کی سعادت نصیب فرمائی۔میری والدہ ۱۸۹۹ ء یا ۱۹۰۰ ء میں افغانستان کے ایک گاؤں اریوب“ کے ایک سید گھرانہ میں