تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 164
تاریخ احمدیت۔جلد 27 حضرت خدیجہ بیگم صاحبہ 164 ولادت: ۱۸۷۳ء بیعت : ۱۸۹۸ ء وفات : ۱۱ جولائی ۱۹۷۱ء سال 1971ء آپ حضرت خان بہادر غلام محمد خان صاحب لگتی کی اہلیہ تھیں۔احمدیت سے والہانہ اخلاص رکھتی تھیں۔آپ کا تعلق بھیرہ سے تھا۔آپ بہت نیک علیم المزاج اور دلیر خاتون تھیں تقسیم ہند کے موقع پر اپنی بیٹیوں کے ساتھ احمدی عورتوں کو بندوق چلانے کی تربیت دیتی رہیں۔قادیان کے قرب وجوار میں سکھ لٹیروں کو مار بھگانے میں آپ نے بہت بہادری کا مظاہرہ کیا۔سید نا حضرت مصلح موعود نے ایک بار انہیں اپنی ایک تقریر میں اپنے زمانہ کی ایک بہادر عورت قرار دیا تھا۔سلور جوبلی ۱۹۳۹ ء کے ضمن میں ” لوائے احمدیت کے لئے جن خوش نصیب خواتین احمدیت کو دار مسیح میں سوت کاتنے کی سعادت حاصل ہوئی ان میں آپ بھی شامل تھیں۔39 آپ نے اپنے بچوں کی بہت اعلیٰ نمونے سے تربیت کی اور انہیں نیکیوں کی ترغیب دی۔تقسیم ہند کے بعد آپ ملتان میں رہیں، آخری عمر میں بھیرہ میں سکونت پذیر ہوگئیں۔لیکن وفات ربوہ میں ہوئی۔40 اولاد آپ کو خدا تعالیٰ نے کثرت نفوس کی نعمت سے بھی نوازا تھا۔آپ کے تین بیٹے اور آٹھ بیٹیاں تھیں جن کے اسماء درج ذیل ہیں۔محمد یوسف خاں صاحب ایڈووکیٹ محمد بشیر خاں صاحب۔محمد ابراہیم خاں صاحب لاہور۔رسول بی بی صاحبہ زوجہ ماسٹر مبارک اسماعیل صاحب۔صغراں بی بی صاحبہ زوجہ ڈاکٹر عنایت اللہ شاہ صاحب لاہور۔حمیدہ بیگم صاحبہ زوجہ مسعود احمد رشید صاحب لاہور۔آمنہ بیگم صاحبہ زوجہ ہادی علی خاں صاحب ابن حضرت مولانا ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر۔اقبال بیگم صاحبہ زوجہ محمد اکبر خاں صاحب ( یہ اخوند فیاض احمد صاحب کے والد تھے )۔خورشید بیگم صاحبه زوجه سراب احمد خاں صاحب دہلی۔عقیلہ بیگم صاحبہ زوجہ میاں فضل کریم صاحب وہرہ چنیوٹ۔رضیہ بیگم صاحبہ زوجہ میاں عبدالقیوم صاحب وہرہ چنیوٹ۔حضرت سراج بی بی صاحبہ ولادت : ۱۹۰۱ء بیعت پیدائشی احمدی وفات : ۲۷ جولائی ۱۹۷۱ء