تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 137
تاریخ احمدیت۔جلد 27 137 سال 1971ء صاحب نوجوان تھے اور بڑے پایہ کے عالم تھے مگر افسوس ان کی عمر نے وفا نہ کی اور وہ جلدی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔وہ بھی بڑی تبلیغ کیا کرتے تھے اور مرے کالج میں عربی کے پروفیسر تھے۔میں نے ابھی شاہ صاحب سے گیارہ سپارے ہی پڑھے تھے کہ مجھے لاہور سے ملازمت کا حکم مل گیا اور میں شاید ۱۹۰۲ ء جون جولائی کے قریب لاہور چلا گیا۔پھر وہاں سے پنڈی اور پنڈی سے کو ہاٹ گیا۔وہاں پر میرا عارضی انتظام ختم ہو گیا اور میں رخصت لے کر سیالکوٹ پہنچ گیا۔جنوری ۱۹۰۳ء میں میں ابھی گھر پر ہی تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ مولوی کرم دین بھیں کے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہلم جارہے ہیں۔چنانچہ میں بھی بمعہ چند دیگر دوستوں کے جہلم کے لئے روانہ ہو پڑا اور جس گاڑی میں حضرت اقدس آ رہے تھے وہ ہمیں وزیر آبا دملی اور ہم بھی اس میں سوار ہو گئے پر بڑی مشکل سے۔کیونکہ حضرت اقدس کے سفر کرنے کی وجہ سے گاڑی اس قدر پر تھی کہ کسی کمزور آدمی کا چڑھنا بڑا محال تھا۔جس طرح پچھلے بٹوارے کے دنوں میں گاڑی کے پائدانوں پر بھی لوگ چڑھا کرتے تھے اس دن بھی سماں ایسا ہی تھا اور وزیر آباد کے بعد اسٹیشن والے ٹکٹ کسی کو نہ دیتے تھے کیونکہ رش اس قدر تھا کہ گاڑی میں جگہ ہی نہ تھی۔وزیر آباد سے لے کر جہلم تک میں نے دیکھا کہ راستہ میں چھوٹے سے چھوٹا اسٹیشن بھی ہوتا تو اس کے گاؤں کے لوگ اس قدر تعداد میں پلیٹ فارم پر آ جاتے کہ ہر چھوٹا اسٹیشن بھی لاہور جیسا معلوم ہوتا۔بھیٹر کے لحاظ سے۔اور جہلم تک اکثر دوست دیکھنے کی خاطر حضرت اقدس کے ڈبہ میں چلے جاتے مگر حضرت اقدس فرماتے کہ جن دوستوں کے پاس سیکنڈ کا ٹکٹ نہیں وہ مہربانی کر کے اس ڈبہ میں نہ بیٹھیں اور اس طرح دوست ان کا ڈبہ خود بخود چھوڑ جاتے۔راستہ میں جب گاڑی گجرات کے سٹیشن پر پہنچی تو منشی نواب خان صاحب تحصیلدار گجرات نے کئی دیگیں پلاؤ کی گاڑی پر لدوا دیں جو جہلم تک ساتھ دے دی گئیں اور لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ہم تقریباً اول عصر کے وقت جہلم پہنچے اور جب گاڑی جہلم کے اسٹیشن پر کھڑی ہوئی تو گاڑی سے کوئی دس بارہ انگریز اور تین چارلیڈیاں نکل آئیں اور خواجہ کمال الدین صاحب سے پوچھنے لگیں کہ یہ کون شخص آج گاڑی میں سفر کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہم دیکھتے آئے ہیں گاڑی میں بہت بھیڑ تھی۔خواجہ صاحب نے انہیں بتایا کہ یہ Promised Messiah ہے۔تو انہوں نے کہا کیا ہم ان کی فوٹو لے سکتے ہیں۔چنانچہ خواجہ صاحب نے حضرت اقدس سے یہی بیان کر دیا تو حضرت اقدس نے انہیں تصویر لینے کی اجازت دے دی۔چنانچہ انہوں نے تصویر لے لی اور اس کے بعد گاڑی