تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 136 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 136

تاریخ احمدیت۔جلد 27 136 سال 1971ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدرصحابہ کرام کا انتقال اس باب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایسے صحابہ کرام کا مختصر ذکر خیر کیا جارہا ہے جو اس سال رحلت فرما گئے۔اس کے علاوہ ایسے مرحومین کا تذکرہ بھی ہوگا جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت کی سعادت تو نصیب ہوئی لیکن زیارت سے مشرف نہ ہو سکے۔حضرت با بو خواجہ محمد الدین صاحب ریٹائر ڈ پوسٹ ماسٹر سیالکوٹ ولادت: ۱۸۸۵ء بیعت: قریباً ۱۹۰۳ء وفات : ۱۳ جنوری ۱۹۷۱ء 1 حضرت خواجہ محمد الدین صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔میں ابھی چھوٹا ہی تھا کہ والد صاحب (حضرت خواجہ احمد الدین صاحب ) بوجہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب خالو عبد العزیز صاحب والد ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب علیگڑھی اور سید حامد شاہ صاحب کی رفاقت میں رہنے کے ۹۶-۱۸۹۵ء میں ہی بیعت کر چکے تھے۔وہ غالباً ۹۸-۱۸۹۷ء میں جموں میں ایک ٹھیکیدار کے پاس حساب کتاب لکھنے پر ملازم رہے۔میں بھی جموں ان کے پاس جایا کرتا اور کچھ دیر رہ کر واپس سیالکوٹ آ جاتا۔اس کے بعد وہ ۱۸۹۹ء میں تین سال کے لئے مشرقی افریقہ چلے گئے اور غالباً ۱۹۰۲ ء کے شروع میں وہاں سے لوٹے۔میر اوہ طالبعلمی کا زمانہ تھا چونکہ مذہب کی طرف میری رغبت تھی میرا خیال ہے میں نے بھی بذریعہ خط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی تھی مگر تاریخ اور سن یاد نہیں۔والد صاحب مرحوم کے افریقہ چلے جانے کے بعد میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے درس میں جایا کرتا تھا۔مولوی صدرالدین صاحب بھی ان کے درس میں حاضر ہوتے تھے اور انہوں نے بھی انہی دنوں تازہ تازہ بیعت کی تھی۔اسی اثناء میں میں نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے گھر جا کر قرآن کریم با معنی پڑھنا شروع کیا۔جب حضرت مولوی صاحب نے درس میں قرآن کریم ختم کر لیا تو انہوں نے بطور شکرانہ ختم قرآن پر دوستوں کو ایک وسیع پیمانہ پر دعوت دی اور اس کے بعد حضرت مولوی صاحب قادیان ہجرت فرما کر چلے گئے اور مجھے سید حامد شاہ کے سپرد کر دیا کہ آپ ان کو قرآن مجید پڑھاتے رہنا اور میں شاہ صاحب کے مکان پر جا کر ان سے سبق لیتا رہا اور ساتھ ہی بخاری شریف مولوی قائم دین صاحب ایم اے عربک سے پڑھتا تھا۔یہ مولوی