تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 118 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 118

تاریخ احمدیت۔جلد 27 118 سال 1971ء دوسر احمائل کے سائز کا ہے اور یہ پہلے سائز سے دگنا ہے ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ کل سے چھپنا شروع ہو جائے گا اور اگر اللہ تعالیٰ سب خیر رکھے تو پندرہ بیس دن کے اندر اندر وہ بھی انشاء اللہ چھپ جائے گا۔ہم قرآن کریم مع انگریزی ترجمہ کے یہ دونوں سائز ہیں بیس ہزار کی تعداد میں چھپوا ر ہے ہیں۔ان کے علاوہ قرآن کریم کا متن بچوں کے لئے بھی اور بڑوں کے لئے بھی ضروری ہے۔یہ بھی اس وقت قریباً نایاب تھا اور انشاء اللہ عنقریب چھپ جائے گا اور جماعت اس سے فائدہ اٹھا سکے 66 گی۔‘ 118 حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی قیمتی نصائح ۳۰ دسمبر ۱۹۷۱ء کو مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خانصاحب صدر عالمی عدالت نے اس موقع پر احمدی نوجوانوں کو بیش قیمت نصائح سے نوازتے ہوئے خاص طور پر یہ حقیقت نمایاں فرمائی کہ مومن کا ہر لحظہ، اس کا ہر پیسہ اور اس کی ہر سوچ اور فکر وتد بر نہایت قیمتی ہے۔مومن ہونے کی حیثیت میں نوجوانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اوقات ، اپنے اموال اور اپنی غور وفکر کی صلاحیت کی حقیقی قدر کرنا سکھیں اور وہ قدر یہی ہے کہ آپ کا ہرلحہ، آپ کا ہر پیسہ اور آپ کی ہر سوچ بر موقع اور برمحل استعمال میں آئے۔اس رنگ میں صرف ہو کہ وہ حصول رضائے الہی پر منتج ہو نہ کہ اس کی ناراضگی مول لینے کا موجب بنے۔اس کے لئے قرآنی تعلیم پر عمل پیرا ہونا اور اسلامی اقدار کو اپنا نا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو استعداد میں اور قوتیں عطا فرمائی ہیں ان کی حقیقی قدردانی اور شکر گذاری کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو صحیح رنگ میں بر موقع استعمال کیا جائے۔ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اس رنگ میں استعمال کریں کہ اس صحیح اور برمحل استعمال کے نتیجہ میں شکر گذاری کا حق ادا ہو سکے اور یہ نہ ہو کہ ہم کفرانِ نعمت کے مرتکب قرار پا کر مستحق عذاب ٹھہریں۔آپ نے خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے خاص طور پر تین نعمتوں کا ذکر فرمایا۔۱۔انسانی زندگی اور وقت۔۲۔قوت فکروتد تبر۔۳۔مال و دولت۔حضرت چوہدری صاحب نے خدام کو تحریک جدید کے اصولوں کے مطابق سادہ زندگی اختیار