تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 111
تاریخ احمدیت۔جلد 27 111 سال 1971ء انداز میں جوابات دیئے۔آپ کی جرات اور دلیری پر جنرل مانک شا حیران ہو گیا۔اس گفتگو کا ذکر آپ نے اپنی کتاب "The Soldiers with mission" میں بھی کیا ہے۔112 پاک و ہند جنگ اور حالات قادیان اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ صراط مستقیم پر قائم ہے اور اسی وجہ سے اس کا یہ بڑا پختہ عقیدہ ہے کہ ہر احمدی گو وہ کسی بھی ملک میں رہتا ہوا اپنے ملک کا مکمل وفادار ہے اور اسے اپنے ملک کی بہبود اور بہتری، وفاداری اور حفاظت کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہنا چاہیے اور جماعت احمدیہ کے افراد اس پر سختی سے کاربند ہیں۔اس کے باوجود بعض شر پسند عناصر احمدیوں کیلئے شرانگیزی کرتے رہتے ہیں لیکن جب بھی انصاف کی رو سے کسی معاملہ کی تحقیقات ہوئی ہیں تو ہمیشہ احمدیوں کا دامن ایسی آلائشوں سے پاک نظر آیا ہے۔۱۹۶۵ء کی جنگ میں ہندوستان کے احمدیوں بالخصوص قادیان کے رہائشی احباب جماعت کے خلاف شرارت کرتے ہوئے خلاف واقعہ خبر میں حکام بالا تک پہنچائیں لیکن جب تحقیقات ہوئیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں کی باعزت بر بیت ہوئی۔۱۹۷۱ء میں ہونے والے ایک ایسے ہی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے شیخ عبدالحمید عا جز صاحب رقمطراز ہیں :۔ایک جماعتی ابتلاء میں خدائی تائید بد قسمتی سے ہندو پاک کی دوسری لڑائی شروع ہو گئی۔ایسے مواقع پر شرارت پسند عنصر کو جماعت احمدیہ کے خلاف غلط افواہیں پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے۔اس مرتبہ نا معلوم کسی شکایت کی بناء پر احمد یہ ایر یا خالی کر کے ہمیں باہر کسی غیر معلوم مقام پر لے جانے کی تکلیف دہ اسکیم بنائی گئی۔چنانچه مورخه ۷۱-۱۲-۵ کو ہمارے پاس بٹالہ تھانہ کے ایس۔ایچ۔او اور سب انسپکٹر سی۔آئی۔اے سردار کرتار سنگھ صاحب آئے اور ڈی۔ایس۔پی بٹالہ کی طرف سے یہ پیغام دیا کہ حکومت کی طرف سے ہمیں پولیس کی نگرانی اور حفاظت میں کالج کے ہوٹل میں لے جانے کا پروگرام ہے چونکہ ہمارے لئے اچانک ایسی اسکیم کسی صورت میں بھی قابل قبول نہ تھی اس لئے حضرت امیر صاحب ( مراد حضرت عبد الرحمن جٹ صاحب) مکرم چوہدری سعید احمد صاحب اور مولوی برکت علی صاحب نے ان کو بتا یا کہ دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ جگہ ہم اپنے لئے قادیان کا یہ ایر یا سمجھتے ہیں جہاں رہ رہے ہیں اور ہم ایسی کسی تجویز کو اپنے لئے قابل عمل نہیں پاتے۔اس شرارت کو بھانپ کر ہم نے