تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 106
تاریخ احمدیت۔جلد 27 106 سال 1971ء میجر جنرل افتخار احمد صاحب جنجوعہ شہید کو دوسری بار ہلال جرأت کا اعزاز تاریخ شہادت : ۱۰ دسمبر ۱۹۷۱ء اس جنگ میں ایک احمدی سپوت میجر جنرل افتخار احمد جنجوعہ صاحب ۱۰ دسمبر ۱۹۷۱ء کو شہید ہو گئے۔صدر مملکت پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اس نامور احمدی جرنیل میجر جنرل افتخار احمد شہید کو دسمبر ۱۹۷۱ء کے آخر میں چھمب سیکٹر میں سرفروشانہ کارنامے سرانجام دینے پر دوسری بار ہلال جرأت کا اعزاز عطا کیا۔اس سلسلہ میں ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ میجر جنرل افتخار احمد پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے۔۱۹۴۲ء میں انہیں فوج میں کمیشن ملا۔انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج فورٹ لیون ورتھ (امریکہ) سے بھی گریجوایشن کیا۔فوج میں آپ نے بہت نام پیدا کیا اور ان کا فوجی کیرئیر بہت ممتاز اور نمایاں رہا۔میجر جنرل افتخار رن کچھ میں ہونے والی ۱۹۶۵ء کی جنگ کے ہیرو تھے۔رن کچھ کے معرکوں میں انہوں نے بریگیڈیر کمانڈر کی حیثیت سے بھارتی فوجوں کے بہت مضبوط گڑھ بیار بیٹ پر حملہ کیا۔معرکہ بیار بیٹ کی منصوبہ بندی، غیر معمولی بہادری اور غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کے مظاہرہ پر انہیں ہلال جرات کا اعزاز دیا گیا۔شہادت کا مرتبہ پانے سے قبل میجر جنرل افتخار نے چھمب سیکٹر میں بھارتیوں کے خلاف اپنے ڈویژن کی بڑی فتح مندی کے ساتھ قیادت کی تھی جہاں غیر ملکی صحافیوں کے بیان کے بموجب بھارتیوں نے مضبوط ترین دفاعی مورچے قائم کر رکھے تھے ،ٹینکوں کے جال بچھا رکھے تھے اور توپ خانہ کی نہایت ہی مضبوط چوکیاں بنائی ہوئی تھیں۔کنکریٹ سے تعمیر کی ہوئی رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میجر جنرل افتخار نے مقدمتہ الجیش میں شامل ہو کر بڑی بے خوفی سے اپنی فوجوں کی کمان کی اور اس معرکہ میں انہوں نے اپنی حفاظت سے قطعاً بے پروا ہوتے ہوئے بے مثال عزم اور جرات کا مظاہرہ کیا۔فضائی دیکھ بھال کی ایک مہم کے دوران ۱۰ دسمبر ۱۹۷۱ء کو میجر جنرل افتخار کا ہیلی کا پر تباہ ہو کر زمین پر آرہا اور وہ شہید ہوگئے۔105 میجر جنرل افتخار احمد صاحب جنجوعہ شہید محترم محمود امجد صاحب ایم اے (آکسن) بارایٹ لاء مرحوم ( مدفون مقبرہ بہشتی ربوہ) کے صاحبزادے تھے۔