تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 56
تاریخ احمدیت۔جلد 26 56 سال 1970ء نائب بھی موجود تھے۔ریڈیو اور ٹیلیویژن کے نمائندے بھی حاضر تھے۔حضور نے اخباری نمائندوں کو انٹرویو دیا۔حضور نے فرمایا کہ مذہب دل کا معاملہ ہے۔جب تک دل نہ جیتے جائیں مذہب قبول نہیں کیا جاسکتا۔یہ کام وحشیانہ طاقت کے استعمال سے نہیں ہو سکتا۔حضور نے فرمایا کہ میرا پیغام وہی ہے جو اسلام کا پیغام ہے۔جس کا ہمارے سید و مولی آنحضرت ﷺ نے بدیں الفاظ اعلان فرمایا کہ میں بھی تمہارے جیسا انسان ہوں۔پس سب انسان پیدائش کے لحاظ سے بطور انسان برابر ہیں۔ان سب کا حق ہے کہ صحیح مذہب ان تک پہنچایا جائے۔حضور نے مسلم گورنر صاحب سے گفتگو فرمائی۔ہوٹل ڈیوکارانٹر کانٹی نینٹل میں تشریف لے گئے جہاں صدر مملکت کی طرف سے آٹھ کمرے حضور کے لئے ریز رو تھے۔صدر مملکت سے ملاقات اسی دن شام کو صدر مملکت مسٹر ولیم ٹب مین سے حضور کی ملاقات ہوئی اور انہیں پاکستانی صنعت کا ایک تحفہ پیش کیا جسے انہوں نے بہت پسند کیا۔پھر جماعت کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں شامل ہوئے جس میں لائبیریا کے وائس پریذیڈنٹ، چیف جسٹس ، پیکر پارلیمنٹ اور مختلف ممالک کے سفیر بھی شامل ہوئے۔رات کو ٹیلیویژن پر حضور کی تشریف آوری کے مناظر دکھائے گئے۔۳۰ را پریل کی صبح کو انفرادی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔پھر سمندر کے کنارے سیر کے لئے تشریف لے گئے۔تیسرے پہر ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا اور بعض سوالات کے جواب دیئے۔آپ نے فرمایا کہ ہمارا مغربی افریقہ کے ممالک میں جماعتیں قائم کرنے سے کوئی ذاتی مفاد حاصل کرنا مقصود نہیں۔جو آمد ہوتی ہے انہی ممالک کی بہبود پر خرچ ہوتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہماری جماعت کا بحیثیت جماعت سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ہماری جماعت کا اصول ہے کہ حکومت وقت کی اور قانون کی اطاعت کی جائے ہم تو مذہبی جماعت ہیں۔پر یس کا نفرنس کے معا بعد اسی کمرے میں حضور انور نے جماعت کے عہدیداران کو بلایا ہوا تھا۔اس اجلاس میں حضور نے عہدیداران کو لائبیریا میں تبلیغی تعلیمی اور طبی کام کی توسیع وترقی کے بارہ میں ہدایات دیں اور فرمایا کہ اصل مقصد تو خدمت ہونا چاہیئے۔عہد یداران نے اپنی بعض مشکلات حضور کے سامنے پیش کیں۔اس پر حضور نے امداد کا وعدہ فرمایا اور فرمایا کہ انشاء اللہ ہمارا قدم آگے ہی بڑھتا