تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 27
تاریخ احمدیت۔جلد 26 مجلس مشاورت ۱۹۷۰ء 27 سال 1970ء اس سال مجلس مشاورت ۲۷، ۲۸، ۲۹ مارچ ۱۹۷۰ء کو ایوان محمودر بوہ میں منعقد ہوئی جس میں مختلف جماعتوں کے۴۹۳ نمائندگان نے شرکت کی۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نہایت ایمان افروز افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دنیا میں ایک روحانی و جسمانی انقلاب رونما ہونا مقدر تھا۔یہ انقلاب آپ کی بعثت کے بعد اول دن سے ہی رونما ہوتا چلا آ رہا ہے ہم اس عظیم انقلاب کے بروئے کار آنے کے سلسلہ میں مختلف ادوار میں سے گذر رہے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ہم اس انقلاب عظیم کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں جس میں غیر معمولی رنگ میں آسمان سے فرشتوں کا نزول شروع ہو چکا ہے جس طرح پھل پکنے پر درختوں کی ٹہنیوں کو ہلایا جاتا ہے اور ٹہنیوں کو ہلانے کے نتیجہ میں پھل زمین پر گرنے لگتے ہیں۔اسی طرح اب یوں محسوس ہورہا ہے کہ آسمان سے فرشتے نازل ہو ہو کر اطراف و جوانب عالم میں لوگوں کے دلوں کو ہلا رہے ہیں پکے ہوئے پھل گر رہے ہیں اور دنیا ان سے فیضیاب ہو رہی ہے۔حضور نے اس مرحلہ پر اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت کے متعد دایمان افروز واقعات بیان فرمائے جو اس امر کے آئینہ دار تھے کہ کس طرح ملائکہ میں غیر معمولی حرکت کی وجہ سے بیرونی ممالک ریا لخصوص عرب علاقوں میں بعض ذی اثر لوگوں کے دل حق کی طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔جس کی یک تفصیلی رپورٹ روئداد مجلس مشاورت ۱۹۷۰ء میں موجود ہے۔تازہ واقعات کے تذکرہ کے بعد حضور نے احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ ملائکہ میں تیز حرکت کے یہ آثار اور ان کے نتیجہ میں مختلف اقوام کی سعید روحوں کا حق کی طرف یہ ایمان افروز میلان علامت ہے اس روحانی پیاس کی ، جو آج ہر طرف لوگوں کو لگی ہوئی ہے۔حضور نے فرمایا فرشتوں نے حرکت میں آکر پیاس لگا دی ہے اب اس پیاس کو بجھانا اور حق کی متلاشی روحوں کو سیراب کرنا آپ کا کام ہے۔فرشتوں کا کام تھا کہ وہ حرکت پیدا کریں سو انہوں نے وہ حرکت پیدا کر دی ہے اور برابر کر رہے ہیں اب آپ کا کام ہے کہ لوگوں کی اس پیاس کو بجھانے کا سامان کریں۔اس ضمن میں حضور نے ایک مضبوط پریس کے قیام اور کسی نہ کسی بیرونی ملک میں ایک