تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 355
تاریخ احمدیت۔جلد 26 355 سال 1970ء (حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی تبلیغی مجلس کراچی مکرم کیپٹن شمیم احمد خالد ستارہ امتیاز پاکستان بحریہ سابق مجاہد بیلجیم کا تحریری بیان ہے کہ:۔” ۱۹۷۰ء کے سالوں کی دہائی کے آخر کی بات ہے خاکسار کراچی میں تعینات تھا اور مولوی تمیز الدین خان روڈ پر واقعہ نیول رہائشی علاقہ کے C33 فلیٹ میں رہائش پذیر تھا۔ان دنوں صاحبزادہ میاں طاہر احمد صاحب ناظم وقف جدید سندھ کے دورہ پر تشریف لائے ہوئے تھے۔خاکسار نے ان سے وقت لے کر اپنے کئی ایک دوستوں کو جن کا تعلق بحریہ سے تھا اپنے ہاں عصرانہ پر مدعوکر لیا تا دعوت الی اللہ ہو۔معینہ تاریخ پر یہ دوست جمع ہوئے تو میاں صاحب کی آمد میں کچھ تاخیر ہوگئی۔معلوم ہوا کہ وہ اندرونِ سندھ دورہ پر تشریف لے گئے تھے اب آتے ہی ہونگے۔چنانچہ جلد ہی میاں صاحب آ گئے۔سفری پچست لباس میں ملبوس تھے اور سفر کی گرد چہرہ پر نظر آرہی تھی۔معلوم ہوا کہ واپسی پر جائے قیام پر نہیں گئے اور سیدھے اپنی اِس Appointment کے لئے یہاں پہنچ گئے۔اوپر تشریف لائے اور گفتگو شروع ہوئی۔سب مدعوئین سوال کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔خاکسار نے خود ہی مذہبی موضوع چھیڑ دیا۔بات کا رخ جلد ہی وفات مسیح اور ٹیورن کے کفن کی طرف مڑ گیا۔میاں صاحب نے بڑی تفصیل سے کفن کے بارے میں سائنسی تحقیق اور اس سے اخذ ہونے والے نتائج کا ذکر کیا۔یہ تبلیغی مجلس کوئی دو گھنٹے جاری رہی اس کے بعد میاں صاحب کو جانا پڑا کیونکہ کسی اور جگہ اگلی Appointment تھی۔مصروفیت کا عجیب عالم تھا۔میاں صاحب کی روانگی کے بعد افسران نے کچھ تبصرے کرنے شروع کر دیئے۔کموڈور فاروق مرزا نے جو بعد ازاں ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف ( سپلائی ) بنے کہا کہ یہ بات تو ظاہر ہے کہ میاں صاحب Blue Blooded مغل ہیں۔نہ صرف شکل وصورت سے بلکہ بات کا انداز شخصیت وغیرہ سب کچھ مغلوں جیسی ہے۔تمام افسران جو اس موقعہ پر موجود تھے میاں صاحب سے متاثر ہوئے اور حضور کے خلیفہ بننے کے بعد اپنی اُس ملاقات اور تعلق کا عمدگی سے ذکر کرتے“۔پر و فیسر قاضی محمد اسلم صاحب کے اعزاز میں الوداعی تقریب 39 محترم پروفیسر محمد اسلم صاحب ایم اے تقریبا پانچ برس ۱۹۶۶ء تا ۱۹۷۰ ء تک تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے پرنسپل کی حیثیت سے فرائض بجالانے کے بعد ریٹائر ہوئے۔محترم قاضی صاحب کی راہنمائی