تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 332 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 332

تاریخ احمدیت۔جلد 26 332 سال 1970ء بابا جی ایک ماہر حداد (لوہار ) تھے اور گرم کام کرتے کرتے انہیں دوران سر کا عارضہ لاحق ہو گیا ہوا تھا۔سر پر ایک پٹکا ہر وقت مضبوطی سے باندھے رہتے تھے اسی وجہ سے عرف عام میں آپ کو باباسر پیٹر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔اس عمر کے جو بزرگ قادیان آئے تھے ان کے سپرد کوئی معین ڈیوٹی نہیں تھی۔اپنی مرضی سے بعض بزرگ کوئی کام اپنے لئے پسند کر لیتے تھے اور وہ کرتے رہتے تھے۔بابا مستری محمد اسمعیل صاحب نے اپنے لئے خود بہشتی مقبرہ میں قبور کی صفائی کا کام پسند کیا تھا اور بڑی با قاعدگی سے اس کام میں لگے رہتے تھے۔کچھ عرصہ بعد آپ نے بہشتی مقبرہ میں ہی پہرہ داران والے کمرہ میں رہائش رکھ لی تھی۔۱۹۶۵ء میں آپ بہشتی مقبرہ میں ہی رات کو رہتے تھے۔صبح شام تھوڑی دیر کیلئے شہر آتے اور لنگر خانہ سے کھانا کھا کر پھر بہشتی مقبرہ چلے جاتے انہی ایام میں مکرم چوہدری محمد احمد صاحب کی ڈیوٹی بہشتی مقبرہ کے پمپ پر لگ گئی اور آپ راتوں کو اکثر پمپ چالو یا بند کرنے بہشتی مقبرہ جاتے رہتے تھے ایک روز مکرم چوہدری محمد احمد صاحب صبح فجر کی نماز کے بعد چائے کی دوکان پر مجھے ملے اور کہنے لگے عامل صاحب آج تو میں بمشکل بچاہوں قریب تھا کہ میرا ہارٹ فیل ہو جائے۔میں نے سبب پوچھا تو بتایا کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ آجکل بابا محمد اسمعیل صاحب بہشتی مقبرہ میں رات کو رہتے ہیں۔میں حسب معمول رات ساڑھے تین بجے پمپ چالو کرنے گیا اس وقت چاند غروب کے قریب تھا اور روشنی مدھم پڑ چکی تھی۔میں اپنے دھیان سے جارہا تھا کہ اچانک قبروں کے درمیان سے کوئی شخص اٹھ کھڑا ہو گیا بال بکھرے ہوئے۔میں ایک دم ڈر اور سہم کر کھڑا ہو گیا میرا دل زور زور سے دھڑ کنے لگا۔قریب تھا کہ میں گر جاؤں میرا جسم پسینہ سے شرابور تھا۔( یوں بھی گرمیوں کے دن تھے ) اچانک بابا جی کی آواز آئی محمد احمد ہے؟ یہ مانوس آواز سن کر میری جان میں جان آئی اور میں پمپ پر جا کر نماز پڑھنے والے چبوترہ پر ہی فجر کی اذان تک لیٹا رہا۔بابا جی عزم اور ارادہ کے پکے تھے اور اپنے کاموں میں مستعد۔بیمار تو آپ شروع ہی سے تھے، دوران سر تھا ، پھر بڑھاپے سے مزید کمزوری ہو گئی اور آپ چلنے پھرنے کے قابل نہ رہے۔اس لئے آپ کو بہشتی مقبرہ سے لا کر حضرت نواب صاحب والے شہر والے مکان کی نچلی منزل میں رکھا گیا جہاں اور بھی تین چار بزرگ رہتے تھے اس جگہ دو درویش بھی ڈیوٹی پر حاضر رہتے تھے ایک دن کو ایک رات کو جو ان بزرگوں کو لنگر سے کھانا اور ہسپتال سے دوائی لا کر دیتے رہتے تھے۔علاج ہوتا رہا بیماری اور کمزوری روز بروز بڑھتی چلی گئی اور آخر وہ دن آن پہنچا جس دن بابا جی کا سفر آخرت مقر ر اور طے شدہ