تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 331 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 331

تاریخ احمدیت۔جلد 26 331 سال 1970ء محترم حکیم چوہدری بدر الدین عامل بھٹہ صاحب بابا مستری محمد اسمعیل صاحب درویش سے متعلق رقمطراز ہیں: " آپ کے بیٹے مستری محمد احمد صاحب ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو قادیان میں درویشوں میں ٹھہرے تھے ابتدائی طور پر یہ پروگرام تھا کہ ہر دو ماہ بعد افراد بدل جایا کریں گے مگر بعد میں دونوں حکومتوں کے درمیان بعض قانونی الجھنوں کے باعث ایسا کرنا ممکن نہ رہا اور قادیان میں رہ رہے افراد میں سے اکثریت کو تاحیات قادیان میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی اور اشد مجبور افراد کے متبادل کچھ پاکستان سے تین قافلوں میں آگئے جن کی تعداد تھی اور کچھ ہندوستان کی جماعتوں سے متبادل تعداد میسر آجانے کے باعث قریباً ۱۳۸ /افراد کو واپس بھجوا دینا پڑا۔مستری محمد احمد صاحب بھی واپس جانے والوں کی فہرست میں سے تھے۔۵ مارچ ۱۹۴۸ء کو آپ کے والد صاحب بابا مستری محمد اسمعیل صاحب آپ کے متبادل کے طور پر قادیان پہنچ گئے اس لئے اسی کنوائے میں انہیں واپس بھجوادیا گیا۔با با مستری محمد اسمعیل صاحب کو میں نے پہلی دفعہ ۱۹۴۵ء کے اجتماع خدام الاحمدیہ کے موقعہ پر دیکھا تھا اس اجتماع پر ایک نوجوان جو غالبا ضلع لائل پور ( حال فیصل آباد ) سے آئے ہوئے تھے اس نوجوان نے کلائی پکڑنے میں اوّل انعام حاصل کیا تھا۔اس نوجوان سے محترم حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر خدام الاحمدیہ نے بھی شوقیہ کلائی پکڑا ئی تھی۔بابا مستری محمد اسمعیل صاحب بھی اس اجتماع میں آئے ہوئے تھے انہوں نے اس نوجوان کو کہا کہ میں آپ کے ساتھ ڈنڈا پکڑنے کا شوقیہ مقابلہ کرنے کو تیار ہوں ( ڈنڈا پکڑنا اس طرح ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک لاٹھی کو اپنے پاؤں میں دبا کر آمنے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔ایک فریق لاٹھی کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور دوسرا فریق چھڑاتا ہے ) اس نوجوان نے ہاں کر دی مقابلہ شروع ہوا سب دیکھنے والے حیران تھے کہ ایک مضبوط پہلوان نما نو جوان اور دوسری طرف ایک نحیف جسم کا معمر بزرگ بھلا دیکھیں مقابلہ کیسے ہوتا ہے۔مقابلہ کی جگہ پر ایک ہجوم ہو گیا۔نوجوان نے کہا بزرگو آپ پہلے پکڑیں بابا جی نے لاٹھی کو درمیان سے پکڑ لیا نوجوان نے چھڑانے کی کوشش کی نہ چھڑ ا سکا بابا جی نے کہا پھر کوشش کر دیکھو۔جب اس نے دوبارہ بابا جی کی کلائی پکڑی تو بابا جی نے بلند آواز سے کہا کہ یہ کہاں چھوٹے گی اس کو تو تالے لگ گئے ہیں۔واقعی کوشش بسیار کے باوجود وہ نو جوان بابا جی کا ہاتھ نہ چھڑ ا سکا۔سب حاضرین بڑے محظوظ ہوئے۔