تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 323 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 323

تاریخ احمدیت۔جلد 26 323 سال 1970ء صائب الرائے تھیں۔آپ کو رویائے صالحہ بکثرت ہوتی تھیں۔آپ کو ہمیشہ یہ فکر رہتی تھی کہ آپ کی اولا د دیندار اور نیک ہو۔آپ کے بیٹے اقبال احمد نجم صاحب نے جب وقف کرنے کے ارادہ کا اظہار اپنے والد صاحب کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ سوچ لو کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کمزوری دکھاؤ کیونکہ یہ مشکل کام ہے۔اس وقت سلیمہ بانو صاحبہ کو اپنے شوہر کی یہ بات پسند نہ آئی اور اپنے بیٹے کو کہا کہ نیکی کا خیال پیدا ہو تو دیر نہیں کرنی چاہئیے۔فور اوقف زندگی کا فارم پُر کر دو۔ایسا کہتے ہوئے آپ نے ذرا بھر یہ خیال نہ کیا کہ بڑا لڑکا ہے۔مالی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے اس کی مدد کی ضرورت ہوگی۔بلکہ آپ کو اپنے مولا پر کامل تو کل اور بھروسہ تھا اور یہ تڑپ تھی کہ آپ کی اولاد بھی دین کے کام آئے۔آپ کا سلوک احمدی غیر احمدی اور خصوصاً ہمسائیوں سے بہت اچھا تھا۔آپ چھوٹے بچوں کو غریب مستورات کے گھروں میں بھیج کر یہ ہدایت فرماتیں کہ صرف دیکھ آؤ کہ ان کے گھر میں کچھ پکا ہے یا نہیں اور کوئی بات نہ کرنا۔چنانچہ بچے خاموشی سے آکر رپورٹ کر دیا کرتے تھے۔آپ انہیں کھانا بھجواتیں کسی کے پاس کپڑے نہ ہوتے تو کپڑے بھجواتیں۔کوئی اچھی چیز پکا تیں تو ہمسایہ گھر میں ضرور بھجواتیں۔آپ کی دولڑ کیاں چھوٹی عمر میں فوت ہو گئیں۔آپ نے یہ صدمات بھی بڑے حوصلے سے برداشت کئے اور جب آپ کے لگاتار چارلڑکیاں ہوئیں تو ایک کم تربیت یافتہ عورت نے طنزاً کہہ دیا کہ لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوتی ہیں تو آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور کہا کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کی دین پر راضی ہیں اور اس سے کوئی شکوہ نہیں کرتے۔آپ کی ایک بیٹی نعیمہ فوت ہوگئیں تو اس کی وفات کے بعد خدا نے ایک اور بیٹی سے نوازا تو بعض تو ہم پرست غیر احمدی عورتوں نے کہا کہ نعیمہ نام منحوس ہے اس کا نام نعیمہ نہ رکھنا آپ نے تو ہم پرستی کے خلاف چلتے ہوئے اور ایک خواب کی بناء پر اس بیٹی کا نام نعیمہ بشریٰ ہی رکھا۔آپ کے دل میں تبلیغ اسلام واحمدیت کی بہت تڑپ تھی۔دعا کرتی تھیں کہ اسلام واحمدیت کا غلبہ جلد ہو اور آپ کی اولاد کا بھی اس میں حصہ ہو۔آپ کے دل میں خلافت کی بڑی قدرومنزلت تھی اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر خود چلنے اور اپنی اولا د کو چلانے کی ایک تڑپ تھی۔آپ کو سلسلہ کے لٹریچر سے بڑا لگاؤ تھا۔تلاوت قرآن کریم بلا ناغہ کرتیں اور کتب اور اخبارات کا مطالعہ بھی کرتیں۔آپ کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے۔ایک دفعہ بیماری کے دوران ہسپتال میں داخل کرنے کے بارہ میں کہا گیا تو نا پسند فرمایا اور کہا وہاں پر رشوت لے کر داخل کرتے ہیں۔رشوت لینے اور دینے والا ایک جیسا ہوتا ہے۔میں اس ہسپتال میں داخل نہیں