تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 322
تاریخ احمدیت۔جلد 26 ۴۔سری گور و تیغ بہادر صاحب کا قتل | ۵۔دس گور وصاحبان کے نام میاں رحمت اللہ صاحب 76 75 322 سال 1970ء وفات: ۱۹ جولائی ۱۹۷۰ء میاں رحمت اللہ صاحب مرحوم دہڑھ چک نمبر ۲۹ ضلع شیخو پورہ کے رہنے والے تھے۔آپ ۱۹۲۳ء میں نو جوانی کی عمر میں احمدی ہوئے۔آپ نے چوہدری علم دین صاحب کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔جو کہ چوہدری احمد مختار صاحب سابق امیر کراچی کے سگے چچا تھے۔میاں رحمت اللہ صاحب مرحوم کے والد میاں محمد عبد اللہ صاحب قریباً ۱۹۲۱ء میں عیسائی سے مسلمان ہوئے تھے اور میاں رحمت اللہ صاحب ساتھ ہی مسلمان ہو گئے۔آپ نے نیکی میں اتنی ترقی کی کہ سارا گاؤں عزت کرتا تھا اسی وجہ سے آپ کی وفات پر احمدیوں کے علاوہ گاؤں کے اکثر لوگوں نے آپ کی نماز جنازہ ادا کی۔آپ نے جوانی میں قرآن کریم پڑھا۔گاؤں کے اکثر لوگوں نے آپ سے قرآن کریم پڑھا۔آپ کی آواز بہت سریلی تھی اور قرآن کریم بلند آواز سے پڑھتے تھے۔آپ جماعت کے امام الصلوۃ بھی رہے۔مالی حالت کچھ کمزور تھی اس کے باوجود تمام جماعتی کاموں میں حصہ لیتے تھے۔تہجد گزار اور دعا گو بزرگ تھے۔چند سال سیکرٹری مال کا کام بھی کیا۔نماز اور دوسرے جماعتی کاموں کے لئے احباب جماعت کو گھروں میں جا کر ان سے ملتے تھے۔مرحوم نے مورخہ ۱۹ جولائی ۱۹۷۰ء کو بعمر تقریباً ۷۰ سال 77 وفات پائی۔سلیمہ بانو نجمہ صاحبہ اہلیہ علی محمد صاحب انبالوی وفات: ۲۱ جولائی ۱۹۷۰ء آپ حضرت حشمت اللہ خان صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابن حضرت نعمت اللہ خان صاحب کی صاحبزادی تھیں۔آپ کی والدہ حضرت منشی رحیم الدین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں۔مکرمہ سلیمہ بانو صاحبہ کی شادی علی محمد صاحب انبالوی ابن بابو محمد بخش صاحب سابق مینیجر ضیاء الاسلام پریس سے ۱۹۴۳ء میں ہوئی۔آپ کا وجود صفات عالیہ کا مرقع تھا۔بہت دعائیں کرنے والی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ پر قربان ہو جانے والی روح رکھتی تھیں۔نہایت ذہین،