تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 320 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 320

تاریخ احمدیت۔جلد 26 320 سال 1970ء صاحب کی وفات پر اپنے تاثرات درج ذیل الفاظ میں بیان فرمائے:۔و گیانی صاحب مرحوم کے اندر جو خفی جو ہر تھا احمدیت کے نور سے وہ نکھرتا چلا گیا۔سکھ مذہب کا بھر پور مطالعہ رکھتے تھے۔مشہور سکھ گیانیوں سے آپ نے کئی کامیاب مناظرے کئے اور اپنی قابلیت اور حسن بیان کا لوہا منوانے کے ساتھ ساتھ اسلام اور احمدیت کی صداقت کا پرچم لہراتے رہے۔تقریر میں خدا تعالیٰ نے مرحوم کو ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ان کا مخصوص انداز بیان ان کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔مکرم مولوی نصیر احمد صاحب مربی سلسلہ کے الفاظ میں مرحوم اپنے فن کے بادشاہ تھے۔میٹھی اور رسیلی پنجابی زبان میں تقریر کرتے تھے سلجھا ہوا اور غیر بناوٹی لہجہ۔آواز میں ترنم اور موزوں اتار چڑھاؤ موقعہ اور محل کے مطابق ظرافت سے آراستہ وعظ سننے میں لوگ ایسا محو ہوتے تھے کہ گھنٹوں بیٹھے نہیں اکتاتے تھے۔ہجرت کے بعد ان کا میلان بدل گیا سکھ اور ہندو جاچکے تھے۔گیانی صاحب مرحوم نے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ایساڈھالا کہ سکھوں اور ہندوؤں سے متعلق مضامین پر لیکچر دینے والا شخص صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام، وفات مسیح، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، اسلامی معاشرہ، حقوق والدین اور تربیت اولا د غرض جملہ مضامین پر ایسے دل آویز طریقہ سے بولنے لگا کہ دوسروں کے مقابلہ میں لوگ اسے سننا زیادہ پسند کرتے تھے۔صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تقریر کرتے ہوئے بڑے مؤثر فطرتی دلائل دینے کے بعد آخر میں اپنے خاص دردانگیز لہجہ میں بالعموم یہ کہا کرتے لوگو میں اس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر جس نے زمین و آسمان بنائے یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ وہی مسیح موعود ہے جس کی ساری دنیا کو انتظار تھی۔اس کو مان لینا بڑی سعادت ہے اور نہ ماننا بڑی محرومی ہے۔۔دو تین سال سے مرحوم بڑے راز دارانہ انداز میں فرمایا کرتے تھے یار دیا لگڑھی مینوں جاپدا اے میں ہن چھیتی مرجانا ایں اور خاکسار ان کے خیالات کا رخ موڑنے کی کوشش کرتا۔ایک مرتبہ احمد خان صاحب ڈرائیور (اصلاح و ارشاد مقامی ) کو مخاطب کر کے فرمانے لگے میں جب مر گیا تو میری قبر سڑک کے قریب ہی ہو گی۔سڑک پر گذرتے آتے جاتے موٹر کا ہارن ضرور بجایا کرنا میں سمجھ جایا کروں گا کہ ہماری پارٹی جا رہی ہے اور آج سچ سچ یہ خوش مزاج اور خوش گفتار مجاہد سڑک کے پاس ہی منوں مٹی کے نیچے سو رہا ہے۔موٹر کے ہارن کی آواز سنے یا نہ سنے اسے ہزاروں انسانوں کی دعائیں ضرور پہنچ رہی ہوں گی جن کے دلوں میں وہ جوش ایمان پیدا کیا کرتا تھا۔مرحوم نے اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں بے مثال کارنامہ انجام دیا ہے۔فرمایا کرتے تھے