تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 319 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 319

تاریخ احمدیت۔جلد 26 319 سال 1970ء کونے تک پیغام حق پہنچانے کی سعادت نصیب ہوئی۔صدہا کامیاب مناظرے کئے اور بے شمار لیکچر دیئے۔مناظرہ اور خطابت دونوں میں آپ کا ایک مخصوص اور منفرد انداز تھا۔اور عوام کی نفسیات کے آپ خوب ماہر تھے۔اسی لئے اپنوں اور بیگانوں میں آپ کو بے پناہ مقبولیت حاصل تھی اور سبھی آپ کے دلچسپ، پُر لطف اور پر اثر لیکچر سننے کے لئے دور دور سے کھنچے چلے آتے تھے۔آپ باغ و بہار شخصیت کے حامل تھے نہایت خوش طبع اور زندہ دل !!۔طبیعت بہت شگفتہ پائی تھی اور اپنی حاضر جوابی اور لطیفہ گوئی سے پوری مجلس کو کشت زعفران بنادینے کی قدرتی صلاحیت رکھتے تھے۔قیام پاکستان کے بعد آپ کو عیسائیت کے مطالعہ کا شوق ہوا۔پوری بائیل کا بہت گہری نظر سے مطالعہ کیا۔چنانچہ اس پر آپ کو بڑا عبور حاصل تھا اور بہت سے حوالہ جات از بر تھے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوت و تبلیغ قادیان نے ۷ انومبر ۱۹۳۶ء کو آپ کی سروس بک میں یہ ریمارکس قلمبند فرمائے۔گیانی واحد حسین صاحب اچھے مبلغین میں سے ہیں۔سکھوں اور ہندوؤں کے مذہب سے اچھی واقفیت ہے طرز بیان ان کا دل لبھانے والا ہے۔احمد یہ جماعتوں میں اور غیروں میں ان کی تقریروں کا خاص اثر اور قبولیت ہے تبلیغ کا شوق رکھتے ہیں مطالعہ کا بھی انہیں خاص شوق ہے۔احکام کی اطاعت میں مجھے انہوں نے کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا اور میں ان کے کام سے ہمیشہ خوش رہا ہوں“۔سید نا حضرت مصلح موعود نے مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء میں ارشاد فرمایا:۔”ہمارے مبلغ جو ہندوؤں اور سکھوں میں کام کرتے ہیں ان کو کتابوں کا شوق ہے معلوم نہیں کہ شوق ان کے دلوں میں کس طرح پیدا ہوا۔چنانچہ مہاشہ فضل حسین صاحب کے پاس بڑا کافی لٹریچر موجود ہے مہاشہ محمد عمر صاحب کے پاس بھی کئی کتابیں ہیں۔گیانی عباد اللہ صاحب اور گیانی واحد حسین صاحب کے پاس بھی کتا ہیں ہیں۔مگر مولویوں کو اس کا کوئی شوق نہیں۔میرے خیال میں اگر ان چاروں کی کتابیں جمع کی جائیں تو اتنی کتابیں سو مولوی کے پاس بھی نہیں نکلیں گی۔بلکہ شاید ان سے آدھی بھی نہیں ملیں گی۔مولوی محمد اسماعیل صاحب دیا لگڑھی مربی سلسلہ احمدیہ کو۱۹۳۴ء سے ۱۹۷۰ء تک یعنی ۳۶ سال کے سفروں میں گیانی صاحب مرحوم سے رفاقت حاصل رہی جو ایک ریکارڈ ہے۔آپ نے گیانی